نقل مکانی کرنے والی جنگلی حیات صرف حیاتیاتی تنوع کامسئلہ نہیں بلکہ ماحولیاتی توازن، خوراک اور انسانی بقا کےلیے اہم ہے
خصوصی رپورٹ
دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی، مسکن کی تباہی اور انسانی سرگرمیوں کے بڑھتے دباؤ کے باعث نقل مکانی کرنے والی جنگلی حیات (مائیگریٹری اسپیشیز) شدید خطرات سے دوچار ہے۔
اسی تناظر میں پندرہویں کانفرنس آف دی پارٹیز ٹو دی کنونشن آن مائیگریٹری اسپیشیز (سی او پی 15) برازیل میں جاری ہے۔ اس فورم پر عالمی برادری ان انواع کے تحفظ اور انسانی بہبود کے درمیان تعلق کو اجاگر کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کی نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر ماروما مریما نے کہا کہ موجودہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق کنونشن میں شامل تقریباً 49 فیصد انواع تنزلی کا شکار ہیں۔
کنونشن کیا ہے اور اس کی اہمیت
کنونشن آن مائیگریٹری اسپیشیز (سی ایم ایس) ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے تحت کام کرتا ہے۔
اس کا مقصد ان جانوروں اور پرندوں کا تحفظ ہے جو ایک ملک سے دوسرے ملک تک سفر کرتے ہیں۔ ان میں پرندے، سمندری حیات، زمینی جانور اور بعض حشرات شامل ہیں۔
یہ انواع ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ زرعی نظام، آبی وسائل اور انسانی خوراک سے بھی جڑی ہوتی ہیں۔
سی او پی 15: ترجیحات اور عالمی حکمت عملی
کانفرنس میں کئی اہم نکات زیر بحث ہیں۔
ان میں مسکن (ہیبیٹاٹس) کا تحفظ اور بحالی، بین الاقوامی پالیسی سازی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا تدارک اور غیر قانونی شکار کی روک تھام شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سمندری آلودگی اور پلاسٹک کے خطرات بھی اہم موضوعات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
سندھ کی آب گاہوں میں مہمان پرندوں کی تعداد بڑھنے لگی، واٹر فاؤل سروے رپورٹ
موسمیاتی تبدیلی کا اثر: باجوڑ کے تالاب خشک، آبی پرندوں اور وائلڈ لائف میں کمی
ماہرین کے مطابق اگر نقل مکانی کے قدرتی راستے (مائیگریشن روٹس) متاثر ہوئے تو اس کے اثرات معیشت اور خوراک کے نظام تک پہنچیں گے۔

ماحولیاتی ربط اور انسانی بہبود
کانفرنس میں ماحولیاتی ربط (ایکولوجیکل کنیکٹیویٹی) پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
یہ وہ قدرتی راستے ہیں جو مختلف ماحولیاتی نظاموں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والی انواع انہی راستوں پر سفر کرتی ہیں۔
پرندے زرعی کیڑوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ سمندری انواع ماہی گیری کو مستحکم رکھتی ہیں۔ جنگلی جانور بیج پھیلا کر جنگلات کی افزائش میں مدد دیتے ہیں۔
بڑھتے ہوئے خطرات
تحقیقی رپورٹس کے مطابق کئی انواع کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
اہم وجوہات میں موسمیاتی تبدیلی، درجہ حرارت میں اضافہ، جنگلات کی کٹائی، شہری پھیلاؤ اور آلودگی شامل ہیں۔
پلاسٹک اور کیمیائی فضلہ بھی بڑا خطرہ ہیں۔ غیر قانونی شکار اور اسمگلنگ اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
پاکستان کا تناظر
پاکستان نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے لیے ایک اہم راہداری ہے۔
انڈس فلائی وے (انڈس فلائی وے) کے تحت ہر سال لاکھوں پرندے وسطی ایشیا سے جنوبی ایشیا آتے ہیں۔
تاہم، ملک کو کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ ان میں آبی ذخائر کی کمی، آلودگی، غیر قانونی شکار اور مسکن کا سکڑنا شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ماحولیاتی سلسلہ متاثر ہو سکتا ہے۔

عالمی پیغام اور آگے کا راستہ
یہ کانفرنس واضح پیغام دیتی ہے کہ قدرتی دنیا کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
اس کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔
ماہرین علاقائی تعاون، سائنسی تحقیق، ڈیٹا شیئرنگ اور مقامی کمیونٹیز کی شمولیت پر زور دے رہے ہیں۔
نتیجہ: بقا کا مشترکہ چیلنج
نقل مکانی کرنے والی جنگلی حیات کا تحفظ صرف حیاتیاتی تنوع کا مسئلہ نہیں۔
یہ انسانی بقا کا سوال ہے۔
سی او پی 15 جیسے فورمز امید ضرور دیتے ہیں، مگر اصل کامیابی عملی اقدامات سے ہی ممکن ہے۔
