فروزاں ماحولیاتی خبریں ماحولیاتی رپورٹس

پاکستان میں پانی کا بحران سنگین، درجہ حرارت 5 ڈگری تک بڑھنے کا خدشہ

Pakistan water crisis due to climate change and rising temperatures affecting water resources and glaciers

پاکستان میں پانی کا بحران، موسمیاتی تبدیلی سے درجہ حرارت 5 ڈگری تک بڑھنے اور کمزور آبی وسائل پر دباؤ میں اضافے کا خدشہ،ماہرین کا انتباہ۔

Pakistan water crisis due to climate change and rising temperatures affecting water resources and glaciers

پاکستان میں پانی سے متعلق ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور بحالی کے لیے ایس ڈی جی 6.6.1 پروجیکٹ کے تحت دوسری مشاورتی ورکشاپ کا انعقا د اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں کیا گیا۔

یہ ورکشاپ پاکستان واٹر پاٹنرشپ (پی ڈبلیو پی) اور موسمیاتی تبدیلی کی مرکزی وزارت کے گلوبل کلائیمٹ چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر (جی سی سی آئی ایس سی) کے اشتراک سے منعقد کی گئی جس میں حکومتی عہدیداروں، سول سوسائٹی، اکیڈمیا اور ماحولیات پر کام کرنے والے میڈیا پرسنز نے شرکت کی۔

Pakistan water crisis due to climate change and rising temperatures affecting water resources and glaciers

گلوبل چینج امپیکٹ اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عاف گوہیر نے ورکشاپ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ پانی انسان کی بنیادی ضرورت اورحق ہے لیکن اس حق اور ضرورت کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، ہماری پانی کی فی فرد دستیابی 800 کیو بک سے کم ہوچکی ہے اور ہم ان ملکوں میں شامل ہو چکے ہیں جہاں پانی کا حصول نا پید ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں پانی کا بحران ( کمی ) میں بہت سارے عوامل کار فرما ہیں لیکن بنیادی وجہ مو سمیاتی تبدیلی ہے۔

Pakistan water crisis due to climate change and rising temperatures affecting water resources and glaciers

ماہر ماحولیات عاف گوہیر نے کہا کہ

اگر دنیا کے درجہ حرارت میں اس صدی

کے آخر تک 4 ڈگری کا اضافہ ہو گا تو

پاکستان کا درجہ حرارت 5 ڈگری سے زیادہ ہو گا۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب اس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ ملک کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہون نے مزید کہا کہ پانی اور درجہ حرات کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ ہمارے گلیشئر موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے شدید دباؤ کا شکار ہیں اس حوالے قومی ہیٹ اسٹرٹیجی کا ہونا ضروری ہے۔

ماہر ماحولیات عاف گوہیر نے کہا کہ پاکستان کو اپنے انٹیگریٹڈ واٹر ریسورس مینجمنٹ اور دیگر مینجمنٹ سسٹمز کو گراؤنڈ لیول پر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ وسائل اور فنڈنگ ماڈلز کو بہتر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2017 سے شروع ہونے والی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی معلومات کے بعد اب ایک واضح حکمت عملی تیار کرنا ضروری ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس اہم ایشو کو وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی نے اون کیا ہے اور ہمارا کلائمیٹ ونگ اس منصوبے کو لیڈ کر رہا ہے۔

پاکستان واٹر پارٹنرشپ کے کنٹری کوآرڈینیٹر محمد اویس نے منصوبے کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیپ (یواین ای پی) کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ ممالک کے ساتھ مل کر ایکو سسٹم کے تحفظ، نگرانی اور بہتری کے لیے کام کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے ایک عالمی پرگرام شروع کیا گیا جس کے لیے دنیا کے تین ملکوں کا انتخاب کیا گیا جن میں پیرو، ملاوی اور پاکستان شامل ہیں تا کہ وہ اپنے اپنے مملکتوں میں پانی سے متعلق ڈیٹا، پالیسیز اور عملی اقدامات کو بہتر بنا سکیں۔

محمد اویس نے مزید بتایاکہ یہ منصوبہ اس لیے اہم ہے کہ گلوبل واٹر پاٹنرشپ کے پاکستان چیپٹر پاکستان واٹر پاٹنرشپ کی کارکردگی اس حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل رہی ہے اس کے ساتھ ہمارے ملک میں پانی کے وسائل پر بہت زیادہ دباؤ بڑھ رہا ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات واضح ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے پانی کے کے ذرائع کی بہتر منصوبہ بندی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ منصوبہ پاکستان کو سپورٹ کر رہا ہے۔

محمد اویس کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ 2026 تک جاری رہے گا اور موسمیاتی تبدیلی کی مرکزی وزارت کا گلوبل کلائیمٹ چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر (جی سی سی آئی ایس سی) اور پاکستان واٹر پاٹنرشپ (پی ڈبلیو پی) مل کر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں۔

محمد اویس کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ 2026 تک

جاری رہے گا اور موسمیاتی تبدیلی کی مرکزی وزارت

کا گلوبل کلائیمٹ چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر

(جی سی سی آئی ایس سی)

اور پاکستان واٹر پاٹنرشپ (پی ڈبلیو پی) مل کر

اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں۔

Pakistan water crisis due to climate change and rising temperatures affecting water resources and glaciers

اس منصوبے کے تحت ہمیں طے کرنا ہے کہ پانی کے حوالے سے کیا اقدامات اٹھانے ہیں، کون سے ادارے کیا کردار ادا کریں گے اور ہم کس طرح اپنے پانی کے سسٹم کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ورکشاپ میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہونے والی گفتگو سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ اگلے مرحلے میں کن اقدامات کو متحرک کرنا ہوگا اور کن نظاموں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

پاکستان واٹر پارٹنرشپ کے کنٹری کوآرڈینیٹر محمد اویس کے مطابق، یہ عمل مینجمنٹ انسٹرومنٹس کو گراؤنڈ لیول تک لے جانے اور فنڈنگ کی ممکنہ موڈیلیٹیز کو سمجھنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

احمد کمال، سابق چیئرمین فیڈرل فلڈ کمیشن نے کہا کہ اس پورے عمل کا بنیادی مقصد ایک کنٹری امپلیمنٹیشن روڈمیپ تیار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسا منصوبہ ہے جس کے ذریعے یہ واضح کیا جا سکے گا کہ کن اقدامات کی ضرورت ہے اور کن نظاموں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

Pakistan water crisis due to climate change and rising temperatures affecting water resources and glaciers
احمد کمال، سابق چیئرمین فیڈرل فلڈ کمیشن

انہوں نے مزید کہا کہ اس پورے عمل میں اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون کے ذریعے پاکستان اپنی پالیسیوں کو بہتر انداز میں تیار اور مؤثر طریقے سے نافذ کر سکے گا۔

منصوبے کے ٹیکنکل ایکسپرٹ ڈاکٹر محمد عکاشہ کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہم ایسا عمل درامدی پلان ترتیب دیں جس میں ہم کچھ ٹارگٹ طے کریں جو کہ 2030تک کے ہوں اور ان اہداف کے ھصول کے لیے لائحہ عمل بھی دیں کہ ہم کون سے اقدامات کے ذریعے ان کو حاصل کریں گے،اس میں گورنینس، پالیسیز کے ساتھ گراس روٹ لیول پر کام کرنے والے اسٹیک ہو لڈرز سے مشاورت بھی شامل ہے۔

Pakistan water crisis due to climate change and rising temperatures affecting water resources and glaciers
ڈاکٹر محمد اُوکاش، منصوبے کے ٹیکنکل ایکسپرٹ

ایس ڈی جی 6,6,1 کی نیشنل فوکل پرسن ڈاکٹر قرۃالعین نے اس موقع پر تفصیلی پریزینٹیشن پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پانی کے ذرائع ہماری لائیولی ہُڈ اور قومی سلامتی کے ضامن ہیں جو سب سے زیادہ آلودگی کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس اس حوالے سے مختلف انٹر وینشن اور پالیسیز ہیں ہمیں اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے، ہمارے پاس ڈیٹا کا بہت بڑا مسئلہ ہے اور ہم ابھی تک اس جگہ نہیں پہنچے جہاں ہم کوئی متفقہ اور مستند اعداد و شمار دے سکیں۔

ایس ڈی جی 6,6,1 کی نیشنل فوکل پرسن ڈاکٹر قرۃالعین نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد یہ ہے کہ ہم پرابلم کی نشاندہی کریں جو اس روڈ میپ کو بہتر کرسکے تا کہ ہم 2030کے ٹارگٹ کو حاصل کر سکیں۔

Pakistan water crisis due to climate change and rising temperatures affecting water resources and glaciers

پروجیکٹ کا مقصد پاکستان میں پانی سے

متعلق ماحولیاتی نظام میں تبدیلی کے حوالے

سے قومی سطح پر حکمت عملی تیار کرنا ہے

اور اسے ملک کی پالیسیوں میں ضم کرنا ہے۔

یہ ورکشاپ اس سلسلے کی دوسری مشاورتی نشست تھی، جس کا آغاز پہلی ورکشاپ سے ستمبر 2025 میں ہوا تھا۔

ورکشاپ میں موجودشرکا کا کہنا تھا کہ اس عمل کے نتیجے میں ایسی حکمت عملی تیار ہونے کی توقع ہے جس میں عمل درآمد کے شیڈول، مختلف اداروں کے کردار اور ذمہ داریوں پر اتفاق رائے شامل ہوگا۔

واضح رہے کہ تیار شدہ ڈرافٹ کنٹری امپلیمنٹیشن پلان بعد ازاں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں حکومت کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

ورکشاپ میں شریک اداروں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں پانی کا بحران اور اس سے متعلق ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے مضبوط حکومتی کردار، مؤثر پالیسی سازی، مالی وسائل اور تکنیکی صلاحیتیں ناگزیر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تحفظ کا 30×30 ہدف: پاکستان میں محفوظ علاقوں کا مستقبل اور حیاتیاتی تنوع کا چیلنج

ماہرین کے مطابق، تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لانے سے منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں شفافیت اور مؤثریت میں اضافہ ہوگا۔

یاد رہے کہ یہ پروجیکٹ 2026 تک جاری رہے گا اور پاکستان میں پانی سے متعلق ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور بحالی کے لیے قومی ترجیحات کے مطابق رہنمائی فراہم کرے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں