فروزاں فروزاں کے مضامین ماحولیاتی خبریں

ڈبلیو ڈبلیو ایف اور محکمہ ماحولیات گلگت بلتستان کا معاہدہ

WWF and Gilgit-Baltistan Department of Environment Agreement

گلگت بلتستان ماحولیاتی معاہدہ، بڑے دعوے اور اعلانات، مگر شراکت داری کی تفصیلات، اہداف، ٹائم لائن اور شفاف عملدرآمد تاحال سامنے نہ آسکا۔

ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر پاکستان (ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان) اور محکمہ جنگلات، جنگلی حیات و ماحولیات گلگت بلتستان کے درمیان ایک لیٹر آف ایگریمنٹ پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ دستخطی تقریب گلگت میں منعقد ہوئی، جس میں اعلیٰ حکام کی شرکت رہی۔

تقریب میں حکومت گلگت بلتستان کی نمائندگی سیکریٹری سید عبدالوحید شاہ نے کی، جبکہ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی جانب سے سینئر پروگرام ڈائریکٹر رب نواز شریک ہوئے۔

دیگر شرکاء میں ڈپٹی سیکریٹری شیخ عنایت اللہ، چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف ڈاکٹر ذاکر حسین، چیف کنزرویٹر فاریسٹ محمود غزنوی، ڈپٹی چیف پلاننگ علی جبار، اور ڈائریکٹر جی بی-ای پی اے خادم حسین سمیت دیگر حکام شامل تھے۔

گلگت بلتستان ماحولیاتی لحاظ سے نہایت حساس خطہ ہے۔

ادارہ جاتی تعاون پر زور

سیکریٹری سید عبدالوحید شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان ماحولیاتی لحاظ سے نہایت حساس خطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مضبوط ادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے۔

انہوں نے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی تکنیکی اور اسٹریٹجک معاونت کو سراہا اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔

معاہدے کے اہم نکات

: معاہدے کے تحت تعاون کے اہم شعبوں میں شامل ہیں

موسمیاتی لچک (کلائمیٹ ریزیلینس)

حیاتیاتی تنوع کا تحفظ

محفوظ علاقوں کا بہتر انتظام

قدرتی بنیادوں پر حل (نیچر بیسڈ سلوشنز)

مشترکہ منصوبوں کی نگرانی کے لیے ڈاکٹر ذاکر حسین کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی جانب سے ڈائریکٹر نارتھ حیدر رضا ذمہ دار ہوں گے۔

معاہدے کے تحت تعاون کے اہم شعبوں میں شامل ہیں

تفصیلات کا فقدان، سوالات برقرار

اگرچہ اس شراکت داری کو ماحولیاتی تحفظ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم معاہدے کی تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی گئیں۔

: ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ

منصوبوں کی نوعیت کیا ہوگی

فنڈنگ کہاں سے آئے گی

ٹائم لائن کیا ہوگی

جوابدہی کا نظام کیسے کام کرے گا

ماہرین کے مطابق، محض اعلانات کافی نہیں ہوتے۔ واضح حکمت عملی، شفافیت اور نتائج پر مبنی اقدامات ناگزیر ہیں۔

ماضی کے منصوبے اور خدشات

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک میں ماحولیاتی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ تاہم گلگت بلتستان میں بعض منصوبوں کے دیرپا اثرات کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

: مثال کے طور پر

سن 2011 میں ویٹ لینڈز کے تحفظ کا منصوبہ

سن 2015 میں کمیونٹی بیسڈ واٹر مینجمنٹ پروگرام

ان منصوبوں کے طویل المدتی نتائج سے متعلق واضح عوامی ڈیٹا دستیاب نہیں۔

حالیہ برسوں میں سسٹین ایبل انفراسٹرکچر انیشیٹو جیسے پروگرام بھی شروع کیے گئے، لیکن ان کی عملی پیش رفت پر مسلسل نگرانی کی کمی محسوس کی گئی۔

گلگت بلتستان کو اس وقت متعدد چیلنجز درپیش ہیں

ماحولیاتی چیلنجز سنگین

: گلگت بلتستان کو اس وقت متعدد چیلنجز درپیش ہیں

گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلاؤ

جنگلات کی کٹائی

جنگلی حیات کو خطرات

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات

ایسے حالات میں غیر واضح معاہدے عملی تبدیلی لانے میں ناکام رہ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

اسموگ سے نمٹنے کے لیے پاک بھارت مشترکہ فضائی آلودگی فورم کی تجویز

اہم سوالات

: گلگت بلتستان ماحولیاتی معاہدہ کے بعد چند اہم سوالات سامنے آ رہے ہیں

کون سے منصوبے شروع کیے جائیں گے؟

فنڈنگ کا نظام کیا ہوگا؟

مقامی کمیونٹیز کا کردار کیا ہوگا؟

نتائج کی نگرانی کیسے ہوگی؟

نتیجہ

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اور حکومت گلگت بلتستان کے درمیان تعاون بظاہر مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا انحصار شفافیت، واضح حکمت عملی اور موثر عملدرآمد پر ہوگا۔

بصورت دیگر، خدشہ ہے کہ یہ معاہدہ بھی ماضی کی طرح محض اعلانات اور تقاریب تک محدود ہو کر رہ جائے گا، جبکہ خطہ بدستور ماحولیاتی خطرات سے دوچار رہے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں