برفانی چیتے کے حملے سے نگر اور ہنزہ میں خوف کی فضا، درجنوں مویشی ہلاک، مقامی افراد کا معاوضے اور فوری حکومتی اقدامات کا مطالبہ شدید ہوگیا
تنویر احمد، بیورو چیف گلگت بلتستان
گلگت بلتستان کے ضلع نگر کے علاقے میاچھر میں برفانی چیتوں کے حملے جاری ہیں۔ ان حملوں نے مویشی پالنے والوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ حالیہ دنوں میں 65 سے زائد مویشی ہلاک ہو چکے ہیں۔

ویڈیو وائرل، حقیقت غیر واضح
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے۔ اس میں درجنوں بھیڑیں مردہ حالت میں دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ مویشی ایک فرد کے ہیں یا پورے گاؤں کے۔
خوف کی فضا، حملے پھیل گئے
مقامی افراد کے مطابق، حملوں سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔
البتہ یہ واقعات اب صرف نگر تک محدود نہیں بلکہ ہمسایہ ضلع ہنزہ میں بھی ایسے حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔

برفانی چیتوں کی تعداد میں اضافہ؟
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ تحفظ کی کوششوں سے برفانی چیتوں کی تعداد بڑھی ہے۔ اس کے باعث مویشیوں پر حملے بھی زیادہ ہو رہے ہیں۔
ماہرین کی وضاحت
ماہرین کے مطابق برفانی چیتے ’’سرپلس کلنگ‘‘ کرتے ہیں۔ وہ ایک ہی حملے میں کئی جانور مار دیتے ہیں۔ بعد میں وہ واپس آ کر انہیں کھاتے ہیں۔ اسی وجہ سے ایک رات میں بڑا نقصان ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
برفانی چیتے کا تحفظ، گلگت بلتستان میں اہم معاہدہ
قدرت کے آخری قلعے: زمین کو بچانے کی آخری امید؟
تحفظ اور معاش کا مسئلہ
گلگت بلتستان برفانی چیتے کا قدرتی مسکن ہے۔ پاکستان میں یہ نایاب اور محفوظ جانور ہے۔ اس کے شکار پر پابندی ہے۔ تاہم مقامی لوگوں کے معاش اور تحفظ کے درمیان توازن مشکل ہو رہا ہے۔
مقامی افراد کا مطالبہ
مقامی افراد نے حکومت سے فوری معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ مسئلے کا مستقل حل بھی چاہتے ہیں۔
