گلگت میں غیر قانونی لکڑی کے خلاف سخت اقدامات، چیک پوسٹس پر کارروائیاں تیز، بھاری مقدار برآمد، ملزمان کو قید و جرمانہ
(تنویر احمد (بیورو چیف گلگت

گلگت بلتستان میں تعمیراتی لکڑی کی غیر قانونی ترسیل کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔ محکمہ جنگلات نے حالیہ دنوں میں متعدد کامیاب آپریشنز کیے ہیں۔ ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہیں۔

چیک پوسٹ پر کارروائی، بھاری مقدار برآمد
محکمہ جنگلات کے مطابق 15 اپریل 2026 کی شام پڑی چیک پوسٹ پر کارروائی کی گئی۔ انچارج ضیاء الدین، فارسٹ گارڈ کی نگرانی میں ٹیم نے مصدقہ اطلاع پر ایک گاڑی روکی۔
یہ گاڑی تھلیچی سے گلگت جا رہی تھی۔ تلاشی کے دوران بڑی مقدار میں غیر قانونی لکڑی برآمد ہوئی۔ لکڑی کو فوری طور پر قبضے میں لے کر پڑی ڈپو منتقل کر دیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ کیس کو سمری ٹرائل کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

دوسری کارروائی، ملزمان گرفتار
ایک اور کارروائی 14 اپریل 2026 کی رات زوار سنگھ چیک پوسٹ پر کی گئی۔ انچارج امیرزادہ کی قیادت میں عملے نے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے تعاون سے دو افراد کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔
بعد ازاں دونوں ملزمان کو ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر گلگت، مجسٹریٹ عمران خان کے سامنے پیش کیا گیا۔ عدالت نے دونوں کو 40، 40 دن قید اور 10، 10 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

ماحولیاتی خطرات اور چیلنجز
ماہرین کے مطابق یہ کارروائیاں مثبت پیش رفت ہیں۔ تاہم گلگت بلتستان میں غیر قانونی کٹائی ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔
یہ عمل نہ صرف ماحولیات کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ ریاستی وسائل کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ حساس ماحولیاتی نظام کے باعث اس مسئلے کی شدت مزید بڑھ جاتی ہے۔

مستقل حکمت عملی کی ضرورت
ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف وقتی کارروائیاں کافی نہیں۔ ایک جامع حکمت عملی ناگزیر ہے۔
اس میں نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا، مقامی سطح پر آگاہی مہم چلانا اور ملوث افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی شامل ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں
اسموگ بحران: پالیسی موجود مگر عملدرآمد بڑا چیلنج، ملک امین اسلم
زیرِ زمین پانی تیزی سے کم، کیا خطرے کی گھنٹی بج چکی؟
حکومتی عزم
سیکریٹری جنگلات، جنگلی حیات و ماحولیات سید عبدالوحید شاہ نے محکمہ جنگلات کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی لکڑی کی ترسیل کو ہر صورت روکا جائے گا۔
نتیجہ
محکمہ جنگلات اور معاون اداروں کی مشترکہ کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔ تاہم دیرپا حل کے لیے مضبوط پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں۔
