The 17 Sustainable Development Goals provide a comprehensive global framework for addressing poverty, inequality, climate change, and environmental degradation by 2030.
اقوام متحدہ کے ایشیا اور بحرالکاہل کے لیے اقتصادی و سماجی کمیشن کی تازہ رپورٹ ’’ایشیا اور بحرالکاہل پائیدار ترقیاتی اہداف پیش رفت رپورٹ 2026‘‘ محض ایک سفارتی دستاویز نہیں۔ یہ خطے کی ترقیاتی حکمت عملی پر ایک سخت سوالیہ نشان ہے۔
رپورٹ واضح کرتی ہے کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030 تک پائیدار ترقیاتی اہداف صرف نعروں اور کانفرنسوں تک محدود رہ جائیں گے۔ ترقی کا موجودہ ماڈل غیر منصفانہ، غیر پائیدار اور ماحولیاتی طور پر نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایشیا پیسفک میں 117 میں سے 103 قابلِ پیمائش اہداف 2030 تک حاصل نہیں ہو سکیں گے۔
تقریباً 88 فیصد اہداف ہدف سے پیچھے ہیں۔ صرف 4 فیصد درست سمت میں ہیں۔ باقی اہداف یا تو سست رفتار کا شکار ہیں یا الٹی سمت میں جا رہے ہیں۔
اہم نکات درج ذیل ہیں
پائیدار ترقیاتی ہدف 13 (موسمیاتی اقدام): گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج مسلسل بڑھ رہا ہے۔
پائیدار ترقیاتی ہدف 14 (سمندری حیات کا تحفظ): سمندری آلودگی اور ضرورت سے زیادہ ماہی گیری میں اضافہ۔
پائیدار ترقیاتی ہدف 15 (خشکی پر حیات کا تحفظ): جنگلات کی کٹائی اور حیاتیاتی تنوع میں کمی۔
پائیدار ترقیاتی ہدف 10 (عدم مساوات میں کمی): آمدنی اور مواقع کی عدم مساوات میں اضافہ۔
پائیدار ترقیاتی ہدف 6 (صاف پانی اور صفائی): کروڑوں افراد محفوظ پانی سے محروم۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ترقی کا موجودہ تصور ماحول اور انسان دونوں کے لیے نقصان دہ بنتا جا رہا ہے۔
ایشیا پیسفک عالمی آبادی کا تقریباً 60 فیصد حصہ رکھتا ہے، مگر ماحولیاتی بوجھ اس سے کہیں زیادہ برداشت کر رہا ہے۔
شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی اور سمندری سطح میں اضافہ معمول بنتا جا رہا ہے۔ ترقی کے نام پر جنگلات کی قربانی اور فضا میں آلودگی بڑھ رہی ہے۔
اگرچہ رپورٹ علاقائی ہے، مگر پاکستان اس بحران کی نمایاں مثال ہے۔ ملک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، مگر موسمیاتی اثرات سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔
سیلاب، شدید گرمی کی لہریں، گلیشیئر پگھلاؤ اور غیر معمولی بارشیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ مگر پالیسی ردعمل اکثر عارضی اور نمائشی ثابت ہوتا ہے۔
پائیدار ترقیاتی ہدف 2 (بھوک کا خاتمہ) کے تناظر میں پاکستان میں لاکھوں بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ زرعی نظام موسمیاتی دباؤ میں ہے۔ دیہی آبادی معاشی عدم تحفظ کا سامنا کر رہی ہے۔
پائیدار ترقیاتی ہدف 4 (معیاری تعلیم) اور پائیدار ترقیاتی ہدف 5 (صنفی مساوات) بھی چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔ لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں۔ خواتین کی محنت کش قوت میں شمولیت کم ہے۔ صنفی عدم مساوات برقرار ہے۔
رپورٹ ایک اور سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ متعدد اہداف پر قابلِ اعتماد اعداد و شمار موجود نہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ پالیسیاں مکمل معلومات کے بغیر بن رہی ہیں۔ احتساب کا نظام کمزور ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں یہ صورتحال مزید پیچیدگی پیدا کر سکتی ہے۔
کیا ترقی صرف مجموعی قومی پیداوار بڑھانے کا نام ہے؟
کیا ماحولیاتی تباہی کو ترقی کہا جا سکتا ہے؟
کیا آج کا منافع آنے والی نسلوں کے مستقبل سے زیادہ اہم ہے؟
رپورٹ واضح پیغام دیتی ہے کہ اگر ترقی انسان اور فطرت دونوں کو نقصان پہنچائے تو وہ پائیدار نہیں۔
پاکستان کے پاس تین راستے ہیں۔ موجودہ حالت برقرار رکھے۔ نمائشی اصلاحات کرے۔ یا بنیادی تبدیلی اختیار کرے۔
فوری اقدامات میں شامل ہیں
موسمیاتی پالیسی کو قومی سلامتی کا درجہ دینا۔
ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی لاگت لازمی شامل کرنا۔
تعلیم، صحت اور صنفی مساوات کو بجٹ میں حقیقی ترجیح دینا۔
شفاف اور آزاد اعداد و شمار کا نظام قائم کرنا۔
یہ رپورٹ ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ وسائل محدود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
نیا سال 2026 اور بڑھتی گرمی: جنوبی ایشیا اور پاکستان کو درپیش سنگین موسمیاتی خطرات
پاکستان میں پانی کا بڑھتا بحران: موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ اور ناقص پالیسیوں کے سنگین اثرات
اگر پاکستان نے اس موقع پر اصلاحات نہ کیں تو 2030 ہدف نہیں بلکہ ناکامی کی تاریخ بن سکتا ہے۔ اب وقت نعروں کا نہیں، عملی اقدام کا ہے۔ آنے والی نسلیں یہی سوال پوچھیں گی کہ جب وقت تھا تو کیا کیا گیا۔
امریکی برفانی طوفان صرف موسمی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ عالمی موسمیاتی نظام میں گہرے بگاڑ…
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ہائی الرٹ جاری کردیا، محتاط رہنے کی اپیل کی،…
موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے پالیسی کو صرف دستاویز ی نہیں بلکہ فعال نظام…
عالمی حدت کے باعث گزشتہ 11برس جدید انسانی تاریخ کے گرم ترین سال رہے، سمندر…
نیا سال ہی نہیں آیا، نیا موسمی امتحان بھی آیا ہے، سوال یہ ہے کہ…
کراچی میں ہارٹی کلچرل سوسائٹی آف پاکستان کے زیر اہتمام تین روزہ نمائش، جامعہ کراچی…
This website uses cookies.