New Year 2026 and Rising Heat: Escalating Climate Risks for South Asia and Pakistan
فروزاں تجزیاتی رپورٹ
جنوبی ایشیا میں نیا سال اب صرف کیلنڈر کی تبدیلی نہیں رہا۔ یہ ایک نئے موسمی امتحان کی علامت بن چکا ہے۔ ہر سال گرمی کی شدت پہلے سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان وقتی نہیں بلکہ طویل المدتی ہے۔
پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال جیسے ممالک پہلے ہی شدید موسمی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ گرمی بڑھے گی یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے اثرات کتنے گہرے ہوں گے۔
بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی واضح کر چکا ہے کہ جنوبی ایشیا اُن خطوں میں شامل ہے جہاں درجہ حرارت عالمی اوسط سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اگر گرین ہاؤس گیسوں میں کمی نہ کی گئی تو شدید ہیٹ ویوز کی تعداد، دورانیہ اور شدت میں مزید اضافہ ہوگا۔ ماہرین ’’ شدید گرمی کو نیا معمول‘‘ قرار دے رہے ہیں۔
اسی طرح ورلڈ میٹرولاجیکل آرگنائزیشن( ڈبلیو ایم او) نے خبردار کیا ہے کہ ایشیا ریکارڈ توڑ گرمی کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ بحرِ ہند کا بڑھتا سمندری درجہ حرارت مون سون کے نظام کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں گرمی کی لہریں طویل ہو رہی ہیں۔
اقوام متحدہ مومسیاتی پروگرام کے مطابق جنوبی ایشیا کی بڑی آبادی، غربت اور کمزور انفراسٹرکچر اسے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے لیے زیادہ حساس بناتے ہیں۔ شدید گرمی پانی کی قلت، خوراک کے بحران اور توانائی کے دباؤ کو بڑھا دیتی ہے۔
اگر یہی رجحان جاری رہا تو متاثرہ افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجے میں غربت، نقل مکانی اور سماجی عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان میں گرمی اب ساختی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق آئندہ برسوں میں زیادہ شدید ہیٹ ویوز متوقع ہیں۔
کراچی، لاہور، ملتان اور فیصل آباد جیسے بڑے شہر ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ کا شکار ہیں۔ کنکریٹ کی بڑھتی تعمیرات اور درختوں کی کمی درجہ حرارت میں اضافہ کر رہی ہیں۔ اگر شہری شجرکاری اور گرین انفراسٹرکچر پر توجہ نہ دی گئی تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق شدید گرمی آئندہ دہائیوں میں صحتِ عامہ کے بڑے عالمی خطرات میں شامل ہو سکتی ہے۔ ہیٹ اسٹروک، دل اور سانس کی بیماریاں اور پانی کی کمی سے اموات بڑھ سکتی ہیں۔
پاکستان میں خطرہ اس لیے زیادہ ہے کیونکہ محنت کش طبقہ کھلے ماحول میں کام کرتا ہے۔ ان کے پاس حفاظتی وسائل محدود ہیں۔
انٹرنیشنل سنٹر فار انٹیگریٹڈ ماونٹین ڈیولپمنٹ کے مطابق ہمالیائی خطے میں بڑھتا درجہ حرارت پورے جنوبی ایشیا کے موسمی نظام کو متاثر کر رہا ہے۔ برف کے تیزی سے پگھلنے سے پانی کی دستیابی، زراعت اور گرمی کی شدت پر اثر پڑ رہا ہے۔
یہ تبدیلیاں آنے والے برسوں میں درجہ حرارت کو مزید غیر معمولی سطح تک لے جا سکتی ہیں۔
ماہرین متفق ہیں کہ گرمی کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں۔ لیکن اس کے اثرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ ہیٹ ایکشن پلان، ارلی وارننگ سسٹم، شہری سبزہ کاری اور عوامی آگاہی اہم اقدامات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
خیبرپختونخوا میں موسمیاتی تباہ کاریاں، سیلاب، جنگلات میں آگ اور زرعی زمینوں کا بحران نمایاں
کراچی میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان، فضائی معیار مضر صحت
جنوبی ایشیا، خصوصاً پاکستان کو گرمی کو وقتی مسئلہ نہیں بلکہ مستقل پالیسی چیلنج سمجھنا ہوگا۔ صحت، توانائی، زراعت اور شہری منصوبہ بندی کو ایک مربوط حکمت عملی کے تحت چلانا ہوگا۔
سائنسی رپورٹس اور عالمی اداروں کی وارننگ واضح ہیں۔ نیا سال مزید شدید گرمی لا سکتا ہے۔ یہ قیاس آرائی نہیں بلکہ دستاویزی حقیقت ہے۔
سوال اب یہ نہیں کہ گرمی آئے گی یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم کتنے تیار ہیں۔ اگر بروقت اقدامات کیے گئے تو نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر ہر نیا سال پہلے سے زیادہ سخت ثابت ہو سکتا ہے۔
بحر اوقیانوس کا اہم سمندری نظام کمزور، نئی تحقیق میں شدید موسمی خطرات کی نشاندہی،…
جنگ اور ماحولیات کا گہرا تعلق، ماہرین کا سنجیدہ انتباہ، موسمیاتی تبدیلی میں تیزی، آلودگی…
پنجاب میں آلودگی کا زہر ،فصلوں کی باقیات، صنعتی اخراج اور ٹرانسپورٹ کا دھواں صورتحال…
کراچی میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، ریکٹر اسکیل پر شدت تین اعشاریہ چار…
گلگت میں غیر قانونی لکڑی کے خلاف سخت اقدامات، چیک پوسٹس پر کارروائیاں تیز، بھاری…
ملک امین اسلم نے کہا کہ اسموگ سے نمٹنے کیلئے پالیسی اور ٹیکنالوجی موجود ہے…
This website uses cookies.