فروزاں ماحولیاتی رپورٹس

فوسل فیولز منتقلی:دنیا تیل اور کوئلے سے نجات کی جانب ایک نئی سمت میں داخل

Fossil Fuel Transition: World Moves Beyond Oil and Coal

فوسل فیولز سے منتقلی عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دے رہی ہے، جہاں تیل، گیس اور کوئلے کے خاتمے پر کھل کر بات ہونے لگی ہے۔

کولمبیا کے شہر سانتا مارٹا میں ‘‘فوسل فیولز سے منتقلی کی پہلی عالمی کانفرنس’’ (ٹی اے ایف ایف-1) منعقد ہوئی جس نے عالمی موسمیاتی مباحثے میں نئی بحث کو جنم دیا۔

اقوام متحدہ کے موسمیاتی اجلاسوں میں اب تک زیادہ توجہ کاربن اخراج پر رہی ہے، تاہم اس کانفرنس میں پہلی بار فوسل فیولز کے استعمال پر کھل کر بات کی گئی۔

یہ تسلیم کیا گیا کہ انسانی ساختہ موسمیاتی تبدیلی کی بڑی وجہ تیل، گیس اور کوئلے کا مسلسل استعمال ہے۔

یہ کانفرنس 24 سے 29 اپریل 2026 تک جاری رہی جس میں 57 ممالک نے شرکت کی۔

ان میں 27 ممالک کی نمائندگی وزرا، نائب وزرا اور سفیروں نے کی جبکہ تقریباً 1500 سول سوسائٹی نمائندے، ماہرین، سائنسدان اور ماحولیاتی کارکن بھی شریک ہوئے۔

یہ کانفرنس 24 سے 29 اپریل 2026 تک جاری رہی جس میں 57 ممالک نے شرکت کی۔

میزبانی اور مقصد

یہ اجلاس کولمبیا اور نیدرلینڈز کی مشترکہ میزبانی میں ہوا جس کا مقصد فوسل فیولز سے نجات اور صاف توانائی کی طرف منتقلی کے عملی اقدامات پر اتفاق تھا۔

موسمیاتی مذاکرات میں نئی سمت

منتظمین کے مطابق اب تک عالمی مذاکرات میں زیادہ توجہ صرف اخراج پر رہی، جبکہ اصل ذریعہ یعنی فوسل فیولز پر کم بات کی گئی۔

اس کانفرنس نے اسی خاموشی کو توڑنے کی کوشش کی۔ شرکا نے کہا کہ فوسل فیولز پر انحصار کم کیے بغیر موسمیاتی اہداف حاصل نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ منتقلی صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ معاشی اور سماجی نظام کی بڑی تبدیلی ہے۔

کانفرنس میں شریک ممالک عالمی فوسل فیولز کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

عالمی شرکت اور اثرات

کانفرنس میں شریک ممالک عالمی فوسل فیولز کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

یہ ممالک عالمی پیداوار اور استعمال کا تقریباً ایک تہائی حصہ رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ ممالک مشترکہ حکمت عملی اپنائیں تو تیل اور کوئلے کی عالمی طلب میں واضح کمی آ سکتی ہے۔

کئی ممالک پہلے ہی شدید موسمی اثرات جیسے گرمی، سیلاب اور خشک سالی کا سامنا کر رہے ہیں۔

معاشی انحصار بڑا چیلنج

فوسل فیولز پر معاشی انحصار سب سے بڑا چیلنج قرار دیا گیا۔

ترقی پذیر ممالک اب بھی توانائی، روزگار اور برآمدات کے لیے ان پر انحصار کرتے ہیں۔

اس لیے ‘‘جسٹ ٹرانزیشن’’ یعنی منصفانہ منتقلی پر زور دیا گیا تاکہ کمزور طبقات متاثر نہ ہوں۔

ترقی پذیر ممالک اب بھی توانائی، روزگار اور برآمدات کے لیے ان پر انحصار کرتے ہیں۔

نیا سائنسی و پالیسی پینل

کانفرنس کے اختتام پر ‘‘گلوبل انرجی ٹرانزیشن پینل’’ کے قیام کا اعلان کیا گیا۔

یہ پینل حکومتوں کو فوسل فیولز سے منتقلی پر سائنسی رہنمائی فراہم کرے گا۔

اس کے ساتھ تین بڑے ورک اسٹریمز بھی شروع کیے گئے جن میں توانائی منتقلی کے روڈ میپس، معاشی انحصار کا جائزہ اور مالیاتی اصلاح شامل ہیں۔

پاکستان کا کردار

ابتدائی معلومات کے مطابق پاکستان کی اس کانفرنس میں نمایاں شرکت سامنے نہیں آئی۔

یہ تشویش کا باعث ہے کیونکہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ممالک میں شامل ہے۔

ملک میں شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی اور آبی بحران جیسے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

دوسری طرف توانائی کا نظام اب بھی بڑی حد تک تیل، گیس اور کوئلے پر انحصار کرتا ہے۔

کانفرنس کے اختتام پر ‘‘گلوبل انرجی ٹرانزیشن پینل’’ کے قیام کا اعلان کیا گیا۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے فوری منتقلی آسان نہیں۔

توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب، مہنگی بجلی اور محدود وسائل بڑے چیلنجز ہیں۔

اسی لیے عالمی سطح پر مالی اور تکنیکی تعاون ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔

اگر مدد ملے تو پاکستان شمسی، ہوا اور پن بجلی میں نمایاں پیش رفت کر سکتا ہے۔

سندھ اور بلوچستان میں قابلِ تجدید توانائی کے بڑے امکانات موجود ہیں۔

اہم سوال

اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان مستقبل میں اس عالمی مباحثے میں فعال کردار ادا کرے گا یا پیچھے رہ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

گلگت بلتستان انتخابات: وال چاکنگ پر پابندی، ماحول ترجیح

صوتی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی، صحت اور سکون دونوں شدید متاثر

اگلی کانفرنس

اگلی کانفرنس 2027 میں تووالو اور آئرلینڈ کی مشترکہ میزبانی میں ہوگی۔

تووالو ان ممالک میں شامل ہے جو سمندر کی سطح بلند ہونے سے وجودی خطرے کا شکار ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ سلسلہ عالمی توانائی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں