میٹ مک گراتھ
دنیا کے مختلف خطوں میں جاری جنگیں صرف انسانی المیے کا سبب نہیں بنتیں۔ یہ زمین کے ماحول کے لیے بھی ایک خاموش مگر سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ حالیہ تنازعات نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ جنگ کے ماحولیاتی اثرات کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ان کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جنگی سرگرمیوں کے دوران بھاری ہتھیاروں کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ فوجی گاڑیوں کی مسلسل نقل و حرکت بھی ماحول پر اثر ڈالتی ہے۔ اس کے علاوہ بنیادی ڈھانچے کی تباہی بھی بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا باعث بنتی ہے۔ یہ اخراج عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اس کے اثرات پہلے ہی شدید موسمی واقعات کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔
جنگ کے دوران تیل اور گیس کے ذخائر پر حملے ماحول کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے حملوں کے بعد لگنے والی آگ کئی دنوں تک جلتی رہتی ہے۔ بعض اوقات یہ آگ ہفتوں تک بھی جاری رہتی ہے۔
اس دوران فضا میں زہریلا دھواں پھیلتا ہے۔ یہ دھواں مقامی آبادی کی صحت کے لیے خطرہ بنتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دور دراز علاقوں تک فضائی آلودگی میں اضافہ بھی کرتا ہے۔
جنگی علاقوں میں پانی کے ذخائر بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔ تباہ شدہ سیوریج نظام اس مسئلے کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ کیمیائی مواد کے اخراج سے دریا اور زیرِ زمین پانی آلودہ ہو جاتا ہے۔
اس کے نتیجے میں صاف پینے کے پانی کی قلت پیدا ہوتی ہے۔ مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
جنگ کے اثرات صرف انسانوں تک محدود نہیں رہتے۔ حیاتیاتی تنوع بھی اس سے شدید متاثر ہوتا ہے۔ قدرتی مساکن تباہ ہو جاتے ہیں۔ جنگلات جل جاتے ہیں اور جنگلی حیات کو نقل مکانی کرنا پڑتی ہے۔
بعض حالات میں نایاب انواع ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی ہیں۔ اس سے ماحولیاتی توازن مزید بگڑ جاتا ہے۔
انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس) کے مطابق جنگ کے دوران ماحولیاتی تحفظ کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے نقصان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قوانین میں ماحول کے تحفظ سے متعلق شقیں موجود ہیں۔ ان پر سختی سے عملدرآمد ضروری ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ کے بعد بحالی کا عمل صرف عمارتوں کی تعمیر نو تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں ماحول کی بحالی کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔
آلودہ زمین کی صفائی ایک اہم مرحلہ ہے۔ پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانا بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ جنگلات کو دوبارہ اگانا ایک طویل المدتی عمل ہے۔ اس کے لیے عالمی تعاون درکار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
بحر اوقیانوس کا سمندری نظام کمزور، عالمی موسم خطرے میں
ویرونگا کے پہاڑوں میں غم، بقا اور انسان سے حیران کن قربت کی کہانی
چھ سیاروں کی بیک وقت موجودگی؟ کیا واقعی ایسا خطرناک منظر نظر آئے گا؟
مضمون نگار میٹ مک گراتھ (میٹ مک گراتھ) کے مطابق اگر دنیا نے جنگ کے ماحولیاتی اثرات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو موسمیاتی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
جنگ اور ماحولیاتی تباہی کا امتزاج ایک بڑا عالمی چیلنج بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے نمٹنے کے لیے فوری اور مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔
بحالی مراکز پر بڑا ایکشن، کراچی میں انسپکشن کے دوران خطرناک خامیاں سامنے، چار مراکز…
چھ سیاروں کی نایاب صف بندی ایک ساتھ لیکن ہفتے کے دن؟ کیا واقعی آسمان…
ویرونگا کے گھنے جنگلات میں گوریلوں کا اجتماعی غم، سماجی ڈھانچہ اور عالمی تحفظ کی…
بحر اوقیانوس کا اہم سمندری نظام کمزور، نئی تحقیق میں شدید موسمی خطرات کی نشاندہی،…
جنگ اور ماحولیات کا گہرا تعلق، ماہرین کا سنجیدہ انتباہ، موسمیاتی تبدیلی میں تیزی، آلودگی…
پنجاب میں آلودگی کا زہر ،فصلوں کی باقیات، صنعتی اخراج اور ٹرانسپورٹ کا دھواں صورتحال…
This website uses cookies.