ویب نیوز رڈیسک پورٹ
دو حالیہ سائنسی مطالعات کے مطابق، بحر اوقیانوس کے گرد گردش کرنے والا اہم سمندری نظام تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ یہ نظام عالمی موسم اور آب و ہوا کے توازن میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
یہ کمزوری پہلے کے اندازوں کے مقابلے میں زیادہ تیز اور خطرناک ہو سکتی ہے۔
بحر اوقیانوس کی میریڈیونل اوورٹرننگ سرکولیشن، جسے ایم اے او سی کہا جاتا ہے، ایک بڑے کنویئر بیلٹ کی طرح کام کرتی ہے۔
یہ نظام سمندر میں حرارت، نمکیات اور میٹھے پانی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا ہے۔
اس کے اثرات صرف ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کے موسم اور سمندری سطح پر مرتب ہوتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق، انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حدت اس نازک نظام کو متاثر کر رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ دھارا مسلسل کمزور ہو رہا ہے۔
ایک تحقیق میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ نظام آئندہ دہائی میں مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے۔
تاہم سائنسدانوں کے مطابق 2004 سے مسلسل مشاہدے کی وجہ سے اب بھی کچھ غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔
اگر یہ نظام ختم ہو گیا تو اس کے اثرات دنیا بھر میں شدید ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق تقریباً 12 ہزار سال پہلے بھی ایسا واقعہ پیش آ چکا ہے۔
ممکنہ نتائج میں شامل ہیں: یورپ میں شدید سردی، امریکہ کے مشرقی ساحل پر سمندر کی سطح میں اضافہ اور افریقہ کے بڑے حصوں میں طویل خشک سالی۔
جریدے “سائنس ایڈوانسز” میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق، زیادہ تر موسمیاتی ماڈلز اس کمزوری کو کم اندازہ لگا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، صدی کے آخر تک یہ نظام 50 فیصد سے زیادہ کمزور ہو سکتا ہے، جو پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تشویشناک ماڈلز زیادہ حقیقت کے قریب ہیں۔ خدشہ ہے کہ یہ نظام اس صدی کے وسط تک ایک نازک حد تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے بعد اس کا رک جانا یا مکمل ناکامی تقریباً ناممکن ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
جنگ اور ماحولیات کا بحران، خاموش تباہی جو مستقبل کو نگل رہی ہے
پنجاب میں آلودگی: کیا فوری مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے؟
گلگت میں غیر قانونی لکڑی کی ترسیل کے خلاف کریک ڈاؤن
ایک اور تحقیق میں شمالی بحر اوقیانوس کے مغربی حصے سے حاصل شدہ ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
2004 سے اب تک درجہ حرارت، نمکیات اور سمندری بہاؤ کی رفتار کو مسلسل ناپا گیا۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ پچھلے دو دہائیوں میں مختلف مقامات پر یہ نظام واضح طور پر کمزور ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ کمزوری اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ تبدیلی پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔
ہر نئی کمزوری اس نظام کو اس حد کے قریب لے جا رہی ہے جہاں اس کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔
فوسل فیول کا نظام اگر تبدیل نہ ہوا تو مہنگائی، موسمیاتی خطرات اور معاشی عدم…
برفانی چیتے کے تحفظ کے لئے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات گلگت بلتستان اور پاکستان…
اپریل میں ہونے والی بارش کسی خفیہ تجربے یا بیرونی مداخلت کا نتیجہ نہیں ہیں…
شجرکاری مہم میں طلبہ کو ماحولیات کا سفیر بنانے پر زور دیا گیا۔ گرین سندھ…
عالمی یومِ ارض: برف پگھلنے کی رفتار بے قابو، کیا “تیسرا قطب” زمین کے لیے…
جنوبی ایشیا میں 2026 میں بڑھتی گرمی اور جنگیں کیا خطے کو شدید ماحولیاتی بحران…
This website uses cookies.