فروزاں رپورٹ
دنیا اس وقت جس دوراہے پر کھڑی ہے، وہ محض موسمیاتی نہیں بلکہ تہذیبی اور اخلاقی بحران کا مظہر بھی ہے۔ سال 2025 عالمی میڈیا، سائنسی اداروں اور اقوامِ متحدہ کے لیے ایک غیر معمولی سال رہا ہے۔
تازہ ترین عالمی سائنسی ڈیٹا کے مطابق یہ سال انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ گرم سالوں میں شامل ہونے جا رہا ہے۔
یہ حقیقت محض درجہ حرارت کے ریکارڈ تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے سلسلہ وار بحران کی علامت ہے جس کے اثرات زمین، انسان، معیشت اور سیاست سب پر مرتب ہو رہے ہیں۔
یورپ کے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس سمیت کئی عالمی اداروں کے مطابق 2025 کا شمار دوسرے یا تیسرے گرم ترین سال کے طور پر تقریباً یقینی ہو چکا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کو تاریخ کی سب سے گرم دہائی قرار دیا جا چکا ہے، جبکہ ہر نیا سال پچھلے تمام ریکارڈ توڑنے کے قریب نظر آتا ہے۔
درجہ حرارت میں تیزی سے ہونے والااضافہ کسی قدرتی چکر کا حصہ نہیں بلکہ صنعتی سرگرمیوں، فوسل فیول کے بے دریغ استعمال، جنگلات کی کٹائی اور صارفیت پر مبنی معیشت کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
سائنسی ماہرین واضح طور پر کہتے ہیں کہ اگر یہ اضافہ قدرتی عوامل کے تحت ہوتا تو اس کی رفتار کہیں زیادہ سست ہوتی۔
سن2015 میں طے پانے والے پیرس معاہدے میں دنیا نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ عالمی درجہ حرارت کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
اس ہدف کو سائنس دان ایک ”محفوظ حد” قرار دیتے ہیں، یہ سرخ لکیر عبور کرنے کے بعد عالمی موسمیاتی نظام ناقابلِ واپسی تبدیلیوں کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
تاہم حالیہ مہینوں میں کئی بار عالمی درجہ حرارت اس حد کو عارضی طور پر عبور کر چکا ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو یہ عارضی تجاوز مستقل حقیقت میں بدل سکتا ہے، جس کے نتائج نہایت خطرناک ہوں گے۔
موسمیاتی بحران کی ایک اور بڑی علامت دنیا کے سمندروں کا غیر معمولی حد تک گرم ہونا ہے۔ سمندر زمین کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اور اضافی حرارت کا بڑا حصہ جذب کرتے ہیں۔
مگر اب یہی سمندر اس حد تک گرم ہو چکے ہیں کہ وہ موسمیاتی نظام کو مزید غیر مستحکم بنا رہے ہیں۔حالیہ سائنسی تحقیقات کے مطابق بحرِ ہند اور بحرالکاہل میں درجہ حرارت میں اضافے نے ایشیا کے کئی ممالک میں شدید بارشوں، طاقتور طوفانوں اور تباہ کن سیلابوں کو جنم دیا ہے۔
سری لنکا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور ویت نام میں ہونے والی حالیہ تباہیاں اس کی واضح مثال ہیں۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر سمندر معمول کے درجہ حرارت پر ہوتے تو یہ بارشیں اتنی شدید نہ ہوتیں۔
یوں یہ واقعات قدرتی آفات نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی سے جڑی انسانی آفات بن چکے ہیں۔
اسی پس منظر میں یورپی یونین کا حالیہ اعلان عالمی میڈیا میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔
یورپی یونین نے 2040 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 90 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا ہے، جو 1990 کی سطح کے مقابلے میں ناپا جائے گا۔
یہ فیصلہ محض ایک ماحولیاتی اقدام نہیں بلکہ ایک سیاسی اور معاشی پیغام بھی ہے کہ مستقبل کی معیشت کم کاربن اور ماحول دوست ہو گی۔
اگرچہ اس فیصلے کو ماہرین نے سراہا ہے، مگر ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا باقی دنیا، خاص طور پر آلودگی پھیلانے والے بڑے ممالک، اس سمت میں عملی قدم اٹھائیں گے؟
اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کی تازہ رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ دنیا کے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر ممالک نے اپنے
وعدوں کو عملی جامہ نہ پہنایا تو خوراک
کے عالمی نظام کو شدید خطرات لاحق ہوں
گے،پانی کی قلت کئی خطوں میں مستقل
بحران کی صورت اختیار کر لے گی،ساحلی
علاقے سمندر برد ہونے لگیں گے،کروڑوں
افراد موسمیاتی مہاجر بن جائیں گے
اب یہ صورتحال صرف ماحولیاتی نہیں رہی بلکہ انسانی حقوق، عالمی امن اور سماجی استحکام کا بھی مسئلہ بن چکی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس کے اثرات سب سے زیادہ ان ممالک پر پڑ رہے ہیں جن کا عالمی آلودگی میں کردار نہایت محدود ہے۔
پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور افریقی ممالک اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔پاکستان گزشتہ چند برسوں سے شدید گرمی کی لہروں، غیر متوقع مون سون بارشوں، سیلابوں اور گلیشیئرز کے تیز رفتار پگھلاؤ کا سامنا کر رہاہے۔
سن2022 کے تباہ کن سیلاب نے واضح کر دیا تھا کہ موسمیاتی بحران مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ ہے۔
کراچی جیسے بڑے شہر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سب سے کمزور محاذ بن چکے ہیں۔ ناقص انفرا اسٹرکچر، نالوں پر قبضے، کنکریٹ کی بھرمار اور منصوبہ بندی کی کمی نے ہر بارش کو شہری آفت میں تبدیل کر دیا ہے۔
عالمی میڈیا میں زیرِ بحث موسمیاتی اسٹوریز ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ اگر دنیا کا رخ نہ بدلا تو شہری زندگی خود ایک مستقل خطرہ بن جائے گی۔
ہر سال ہونے والی عالمی موسمیاتی کانفرنسیں (کوپ) ایک امید کے طور پر دیکھی جاتی ہیں، مگر ناقدین کے مطابق یہ کانفرنسیں اکثر وعدوں اور بیانات تک محدود رہ جاتی ہیں۔ کوپ30 سے بھی دنیا کو بڑی توقعات وابستہ تھیں، مگر اصل امتحان کوپ میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کرنے سے ہی ہو گا جس کے امکانات ہمیشہ کی طرح کم ہی نظر آتے ہیں۔
سن2020 سے 2030 تک کی دہائی کو سائنس دان فیصلہ کن دہائی قرار دے رہے ہیں۔ اگر اس عرصے میں عالمی اخراج میں نمایاں کمی نہ کی گئی تو موسمیاتی نظام ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں
بالائی ہنزہ میں سیزن کی پہلی ہمالیائی آئی بیکس بیکس ٹرافی ہنٹنگ
!کراچی میں کلائمیٹ مارچ 2025: جینے دو
یہ بحران ہمیں سکھاتا ہے کہ ماحولیات محض ایک شعبہ نہیں بلکہ اب یہ ہر پالیسی کی بنیاد ہے،ترقی کا مطلب فطرت کی قربانی نہیں اور ہم سب کی بقا اجتماعی فیصلوں سے جڑی ہے۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ زمین بچائی جائے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسان اپنے طرزِ فکر کو بدلنے کے لیے تیار ہے؟اگر جواب ہاں میں نہ آیا تو آنے والی نسلیں ہمیں تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا دیکھیں گی۔
محکمہ جنگلی حیات ہر سال ایسے جنگلی جانوروں کی ٹرافی ہنٹنگ کا لائسنس جاری کرتا…
سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کا پانی کا بحران اقوام متحدہ کے اصولوں، انسانی حقِ…
پاکستان پانی بحران کے دہانے پر: اے ڈی بی کی اے ڈبلیو ڈی او-2025 رپورٹ…
کراچی کا موسم اور فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، سرد اور خشک موسم…
ایمازون کی مچھلی پاکستان کے آبی نظام اور ماہی گیروں کے روزگار کے لیے خاموش…
پاکستان اور فلپائن کے کسان فوسل فیول اخراج کنندگان کے خلاف عدالتوں میں۔ یہ موسمیاتی…
This website uses cookies.