تنویر احمد، بیورو چیف گلگت بلتستان
بالائی ہنزہ کے علاقے خنجراب نیشنل پارک کے ریسٹ ہاؤس میں محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے زیر اہتمام ایک تقریب ہوئی۔ تقریب میں سب ڈویژن گوجال کی مقامی کمیونٹیز کو پارک کی انٹری فیس اور ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت ان کا مقررہ حصہ شفاف انداز میں تقسیم کیا گیا۔
تقریب کے مہمان خصوصی چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ارشد مجید مہمند تھے۔ اس موقع پر سیکریٹری داخلہ فیصل احسان پیرزادہ، سیکریٹری جنگلات و جنگلی حیات سبطین احمد، سیکریٹری معدنیات شہباز شیخ اور سیکریٹری پانی و بجلی صفدر خان سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
گوجال کے مختلف کمیونٹی کنٹرولڈ ہنٹنگ ایریاز کے نمائندوں اور عمائدین کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن کا یہ ماڈل مقامی سطح پر بھرپور اعتماد حاصل کر چکا ہے۔
تقریب میں پارک کی انٹری فیس سے حاصل آمدن کا 75 فیصد حصہ مقامی کمیونٹیز کو منتقل کیا گیا۔ خنجراب ویلیجرز آرگنائزیشن کو 5 کروڑ 14 لاکھ روپے دیے گئے۔ جبکہ غلکین کمیونٹی کو 42 لاکھ روپے کے چیکس دیے گئے۔
اسی طرح ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت بھی مختلف کمیونٹیز میں کروڑوں روپے تقسیم کیے گئے۔ اس پروگرام میں 80 فیصد حصہ براہ راست مقامی آبادی کیلئے مختص ہے۔ شمشال، پاسو، حسینی، مسگر، خیبر، غلکین، گلمت اور ہوپر سمیت کئی علاقوں کو اس آمدن سے فائدہ پہنچا۔
مزید برآں، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ساتھ معاہدے کے تحت خنجراب ویلیج آرگنائزیشن کو اضافی 4 لاکھ 60 ہزار روپے بھی فراہم کیے گئے۔
حکام کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تقریباً 6 لاکھ ملکی و غیر ملکی سیاحوں نے خنجراب نیشنل پارک کا رخ کیا۔ اس سے 29 کروڑ روپے کی آمدن حاصل ہوئی۔ ان میں سے 23 کروڑ روپے پہلے ہی مقامی کمیونٹیز تک پہنچائے جا چکے ہیں۔
اسی طرح ٹرافی ہنٹنگ پروگرام سے حاصل مجموعی آمدن 1 ارب 10 کروڑ روپے رہی۔ اس میں سے 88 کروڑ روپے گلگت بلتستان کے 48 مختلف شکار علاقوں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری ارشد مجید مہمند نے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان مضبوط اشتراک کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن کا یہ ماڈل جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنا رہا ہے۔ ساتھ ہی یہ مقامی معیشت کو بھی مستحکم کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب مقامی آبادی کو وسائل میں حصہ دار بنایا جائے تو وہ قدرتی ورثے کے تحفظ میں خود پیش پیش رہتی ہے۔ ان کے مطابق یہ ماڈل پائیدار ترقی کی مؤثر مثال بن چکا ہے۔
گزشتہ تین دہائیوں کے دوران خنجراب نیشنل پارک کا کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن ماڈل گلگت بلتستان میں ایک کامیاب حکمت عملی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس ماڈل کے تحت جنگلی حیات کے تحفظ کو مقامی لوگوں کے معاشی مفادات سے براہ راست جوڑا گیا ہے۔
اس حکمت عملی کے نتیجے میں نایاب جانوروں کی افزائش میں بہتری آئی ہے۔ ساتھ ہی مقامی کمیونٹیز کی آمدن میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے ان کی سماجی اور معاشی حالت بہتر ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
گلگت بلتستان: گلیشیائی جھیل پھٹنے کا خطرہ، الرٹ جاری
مردہ کچھوؤں کی لرزہ خیز دریافت مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟
مارگلہ ہلز میں تیندوؤں کی یلغار، کیا شہری علاقے خطرے میں؟
خنجراب نیشنل پارک قراقرم پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔ یہ پاکستان کے گلگت بلتستان کو چین کے سنکیانگ خطے سے ملاتا ہے۔
یہ مقام 4 ہزار 693 میٹر یعنی 15 ہزار 397 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اسے دنیا کی بلند ترین پختہ بین الاقوامی سرحدی گزرگاہ بھی کہا جاتا ہے۔
خنجراب نیشنل پارک قراقرم ہائی وے پر اہم اسٹریٹجک رابطہ فراہم کرتا ہے۔ اپنی دلکش پہاڑی وادیوں اور شاندار مناظر کے باعث یہ ایک مقبول سیاحتی مقام بھی شمار ہوتا ہے۔
معجزاتی درخت مورنگا پر نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ بیج پینے کے…
شمالی میپ کچھوؤں کی اوپینیکن جھیل میں بڑے پیمانے پر ہلاکت، ماہرین کا انتباہ، تحقیق…
مارگلہ ہلز کے اطراف تعمیرات اور شہری پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، جس سے انسان اور…
گلگت: محکمہ موسمیات نے شدید بارشوں اور گلیشیائی جھیل پھٹنے کے خدشے پر الرٹ جاری…
وفاقی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں جانوروں کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات اور جامع پالیسی…
برفانی چیتے کے حملے سے نگر اور ہنزہ میں خوف کی فضا، درجنوں مویشی ہلاک،…
This website uses cookies.