فروزاں رپورٹ
مورنگا کے درخت کو ’’معجزاتی درخت‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کے سب سے زیادہ غذائیت سے بھرپور پودوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی طبی اور غذائی اہمیت پہلے ہی مسلمہ ہے۔
اب نئی تحقیق میں اس معجزاتی درخت کا ایک اور اہم فائدہ سامنے آیا ہے۔ یہ پانی سے مائیکرو پلاسٹکس ختم کرنے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوا ہے۔
برازیل اور برطانیہ کے سائنس دانوں کی مشترکہ ٹیم نے یہ تحقیق کی۔ نتائج اپریل میں شائع ہوئے۔
تحقیق کے مطابق مورنگا کے بیجوں کا عرق پینے کے پانی سے مائیکرو پلاسٹکس نکالنے میں عام کیمیائی مادّوں جتنا مؤثر ہے۔
یہ عمل پانی کو صاف کرنے کے لیے قدرتی فلٹریشن کا کردار ادا کرتا ہے۔
مطالعے کے شریک مصنف پروفیسر ایڈریانو گونکالویس دوس ریس کے مطابق، مورنگا ہزاروں سال سے پانی صاف کرنے میں استعمال ہو رہا ہے۔
قدیم یونانی، رومی اور مصری تہذیبوں میں بھی اس کے شواہد ملتے ہیں۔
محققین گزشتہ دس سال سے اس کے بیجوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔ خاص طور پر اس کے “کواگولنٹ” اثر پر، جو پانی میں موجود ذرات کو جوڑ دیتا ہے۔
مائیکرو پلاسٹکس انتہائی باریک پلاسٹک ذرات ہوتے ہیں۔
ان کا سائز ایک مائیکرو میٹر تک بھی ہو سکتا ہے۔ یہ آلودگی کا ایک بڑا عالمی مسئلہ ہیں۔
2024 کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر کے 83 فیصد نلکے کے پانی میں یہ ذرات پائے گئے۔
یہ انسانی جسم میں بھی داخل ہو چکے ہیں۔ دماغ، دل اور تولیدی نظام میں ان کی موجودگی رپورٹ ہو چکی ہے۔
سائنس دانوں نے خاص طور پر پی وی سی مائیکرو پلاسٹکس پر تجربہ کیا۔
یہ سب سے زیادہ خطرناک اقسام میں شمار ہوتے ہیں۔
نتائج کے مطابق مورنگا کے بیجوں کا عرق 98.5 فیصد تک مائیکرو پلاسٹکس ختم کرنے میں کامیاب رہا۔
یہ کارکردگی عام کیمیائی ایلومینیم سلفیٹ کے برابر پائی گئی۔
بعض حالات میں مورنگا اس سے بھی بہتر ثابت ہوا۔
ماہرین کے مطابق مورنگا کے بیج کئی لحاظ سے بہتر ہیں۔
یہ قابلِ تجدید ہیں۔ یہ ماحول میں نقصان نہیں چھوڑتے اور بایوڈی گریڈیبل ہیں۔
ایلومینیم کے مقابلے میں ان میں زہریلا اثر کم ہوتا ہے۔
زیادہ ایلومینیم اعصابی بیماریوں سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔
یونیورسٹی آف نیو میکسیکو کے پروفیسر میتھیو کیمپن کے مطابق، یہ قدرتی طریقہ سستا اور ماحول دوست متبادل ہو سکتا ہے۔
یہ ایلومینیم کی کان کنی کی ضرورت بھی کم کر سکتا ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ مزید تحقیق ضروری ہے۔
ایک مورنگا بیج تقریباً 10 لیٹر پانی صاف کر سکتا ہے۔
بڑے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے لیے یہ طریقہ محدود ہو سکتا ہے۔
زیادہ بیج استعمال کرنے سے پانی میں نامیاتی باقیات بڑھ سکتی ہیں۔
انہیں بعد میں الگ کرنا ضروری ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں
سپر ال نینو الرٹ: پاکستان میں نئی ہیٹ ویو ایمرجنسی کا خدشہ بڑھ گیا
پاکستان جھلسنے کو تیار، گرمی، پانی کی قلت اور موسمیاتی قیامت کا خطرہ
/جنگ کا ماحولیاتی چہرہ: عالمی میڈیا کیا جنگ کے ماحولیاتی اثرات کو مکمل طور پر بیان کر رہا ہے؟
ماہرین اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مورنگا نینو پلاسٹکس پر بھی مؤثر ہے یا نہیں۔
یہ ذرات زیادہ خطرناک سمجھے جاتے ہیں کیونکہ یہ جسم کے اندر گہرائی تک جا سکتے ہیں۔
محققین کا خیال ہے کہ مورنگا مستقبل میں ایک اہم قدرتی حل بن سکتا ہے۔
مورنگا پر ہونے والی یہ تحقیق صاف پانی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
یہ قدرتی حل دنیا بھر میں آلودہ پانی کے مسئلے کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔
خنجراب نیشنل پارک میں انٹری فیس اور ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل آمدن کا بڑا حصہ…
شمالی میپ کچھوؤں کی اوپینیکن جھیل میں بڑے پیمانے پر ہلاکت، ماہرین کا انتباہ، تحقیق…
مارگلہ ہلز کے اطراف تعمیرات اور شہری پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، جس سے انسان اور…
گلگت: محکمہ موسمیات نے شدید بارشوں اور گلیشیائی جھیل پھٹنے کے خدشے پر الرٹ جاری…
وفاقی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں جانوروں کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات اور جامع پالیسی…
برفانی چیتے کے حملے سے نگر اور ہنزہ میں خوف کی فضا، درجنوں مویشی ہلاک،…
This website uses cookies.