جنگ اور ماحولیات کا گہرا تعلق، ماہرین کا سنجیدہ انتباہ، موسمیاتی تبدیلی میں تیزی، آلودگی میں خطرناک اضافہ اور تباہ کن اثرات مسلسل نظر انداز
اداریہ
دنیا اس وقت جنگ کے دہانے پر نہیں بلکہ اس کے بیچ کھڑی ہے۔ بارود کی بو، تباہ شہر، بے گھر انسان اور کمزور معیشتیں اس کے واضح اثرات ہیں۔ عالمی میڈیا ان پہلوؤں کو کسی حد تک دکھاتا ہے۔
لیکن ایک اہم پہلو مسلسل نظر انداز ہو رہا ہے۔ یہ ہے جنگ کے ماحولیاتی اور موسمیاتی اثرات۔ یہ وہ خاموش بحران ہے جو تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے۔
فروزاں کا خصوصی شمارہ
میگزین ’’فروزاں‘‘ کے اپریل 2026 کے شمارے میں اسی مسئلے کو مرکز بنایا گیا ہے۔ شمارہ ایک بنیادی سوال اٹھاتا ہے۔
کیا جنگ صرف انسانوں اور معیشت کو متاثر کرتی ہے؟ یا یہ زمین کے قدرتی توازن کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتی ہے؟
جدید جنگ اور ماحولیاتی نقصان
حقیقت یہ ہے کہ جدید جنگیں صرف میدان تک محدود نہیں رہتیں۔ ہر دھماکہ، ہر میزائل اور ہر جلتا ہوا تیل کا ذخیرہ فضا کو آلودہ کرتا ہے۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بڑھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ پانی آلودہ ہوتا ہے اور زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے۔
یہ وہ نقصانات ہیں جن کا مکمل حساب ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔
موسمیاتی تبدیلی پر اثرات
اس شمارے میں شامل مضامین کے مطابق جنگیں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔ گلیشیئرز تیزی سے پگھلتے ہیں۔ موسمیاتی نظام غیر متوقع ہو جاتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ جنگی سرگرمیوں کے اثرات کئی دہائیوں تک رہتے ہیں۔ ان کا ازالہ تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔
میڈیا کی خاموشی
افسوس کی بات یہ ہے کہ عالمی میڈیا اس مسئلے کو کم اہمیت دیتا ہے۔ جنگ کی رپورٹنگ میں سیاست، حکمت عملی اور سفارت کاری کو زیادہ جگہ ملتی ہے۔
ماحولیاتی نقصان کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے اثرات فوری طور پر نظر نہیں آتے۔
یہ اثرات آہستہ مگر تباہ کن انداز میں سامنے آتے ہیں۔
مستقبل کے لیے خطرہ
’’فروزاں‘‘ اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے مطابق ماحولیاتی اثرات کو نظر انداز کرنا مستقبل کی نسلوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔
جنگ ختم ہونے کے بعد بھی اس کے اثرات باقی رہتے ہیں۔ آلودہ پانی، تباہ جنگلات، بنجر زمین اور بدلتا موسم ایک نئے بحران کو جنم دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
زیرِ زمین پانی تیزی سے کم، کیا خطرے کی گھنٹی بج چکی؟
اسموگ بحران: پالیسی موجود مگر عملدرآمد بڑا چیلنج، ملک امین اسلم
پالیسی سازوں کے لیے پیغام
شمارے میں زور دیا گیا ہے کہ عالمی پالیسی ساز، ماہرین ماحولیات اور میڈیا اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔
جنگ کو صرف سیاسی یا عسکری مسئلہ نہ سمجھا جائے۔ اسے ایک ماحولیاتی ایمرجنسی کے طور پر بھی دیکھا جائے۔
جنگ اور ماحولیات، اگر آج اس پہلو کو نظر انداز کیا گیا تو کل نقصان ناقابلِ تلافی ہوگا۔
