مشرقِ وسطیٰ میں بجلی کی بڑھتی طلب، موسمیاتی تبدیلی اور سیاسی کشیدگی کے درمیان نیوکلیئر توانائی پر نئی بحث چھڑ گئی
فروزاں رپورٹ
دنیا اس وقت توانائی کے ایک نئے دوراہے پر کھڑی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، شدید گرمی، بڑھتی آبادی، مصنوعی ذہانت اور صنعتی ترقی کے باعث بجلی کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب فوسل فیولز سے ہونے والی ماحولیاتی تباہی دنیا کو متبادل توانائی ذرائع کی طرف دھکیل رہی ہے۔
ایسے میں جوہری توانائی ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کر رہی ہے۔
خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں، جہاں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں، کئی ممالک اب نیوکلیئر توانائی کو مستقبل کی ضرورت قرار دے رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات، مصر، سعودی عرب اور دیگر ممالک نئے نیوکلیئر منصوبوں پر غور کر رہے ہیں۔ بعض ریاستیں اس شعبے میں عملی سرمایہ کاری بھی کر چکی ہیں۔
تاہم بنیادی سوال اب بھی برقرار ہے۔ کیا سیاسی کشیدگی، جنگوں، پانی کی قلت اور شدید موسمی حالات کے شکار خطے میں جوہری توانائی واقعی محفوظ اور حقیقت پسندانہ انتخاب ثابت ہو سکتی ہے؟

جوہری توانائی کی عالمی واپسی
سن 2011 میں جاپان کے فوکوشیما حادثے کے بعد دنیا بھر میں جوہری توانائی پر شدید تنقید ہوئی۔ کئی ممالک نے اپنے نیوکلیئر پروگرام محدود یا بند کر دیے تھے۔ تاہم اب موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے خطرات نے عالمی طاقتوں کو دوبارہ اس ٹیکنالوجی کی طرف متوجہ کر دیا ہے۔
سن 2023 کی اقوام متحدہ موسمیاتی کانفرنس میں جوہری توانائی کو باضابطہ طور پر “کم اخراج والی ٹیکنالوجی” تسلیم کیا گیا۔ 33 ممالک نے 2050 تک اپنی نیوکلیئر صلاحیت تین گنا بڑھانے کے ہدف کی حمایت کی۔
اس وقت دنیا کے 31 ممالک میں 416 جوہری ری ایکٹر کام کر رہے ہیں۔ یہ عالمی بجلی کا تقریباً 10 فیصد پیدا کرتے ہیں۔ مزید 63 نئے ری ایکٹر زیر تعمیر ہیں۔ تقریباً 60 ممالک مستقبل میں نیوکلیئر توانائی متعارف کرانے پر غور کر رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کا تجربہ
مشرقِ وسطیٰ میں سب سے نمایاں مثال متحدہ عرب امارات کی ہے۔ وہاں “براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ” ملک کی تقریباً 25 فیصد گھریلو بجلی کی ضرورت پوری کر رہا ہے۔
اماراتی حکام کے مطابق اس منصوبے نے توانائی کے شعبے میں استحکام پیدا کیا۔ اس سے کاربن اخراج کم کرنے میں بھی مدد ملی۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک اب اپنے توانائی مستقبل کو صرف تیل اور گیس سے وابستہ نہیں دیکھ رہے۔

مصر کا بڑا نیوکلیئر منصوبہ
مصر بھی جوہری توانائی کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ “الضبعہ نیوکلیئر پاور پلانٹ” تقریباً تکمیل کے مراحل میں ہے۔ اس کی مجموعی صلاحیت 4 ہزار 800 میگاواٹ ہوگی۔
مصری حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ملک کی بڑھتی توانائی ضروریات پوری کرے گا۔ اس کے ساتھ مصر صاف توانائی برآمد کرنے والے ممالک میں بھی شامل ہو سکتا ہے۔
مصر پہلے ہی “بنبان سولر پارک” اور خلیجِ سویز ونڈ فارم جیسے بڑے قابلِ تجدید توانائی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت اور بڑھتی توانائی طلب
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تخفیفِ اسلحہ تحقیق سے وابستہ محقق المونتصر البلوای کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں 2000 سے 2024 کے دوران توانائی کی طلب تقریباً تین گنا بڑھ چکی ہے۔
اس اضافے کی بڑی وجوہات میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ڈیٹا سینٹرز اور صنعتی توسیع شامل ہیں۔ شدید گرمی کے باعث کولنگ سسٹمز کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔
خطے کے بیشتر ممالک میں ڈی سیلینیشن پلانٹس بھی بھاری مقدار میں بجلی استعمال کرتے ہیں۔ یہ پلانٹس سمندری پانی کو قابلِ استعمال بناتے ہیں۔ اسی لیے حکومتیں مسلسل اور مستحکم توانائی ذرائع کی تلاش میں ہیں۔
سب سے بڑا سوال: کیا خطہ محفوظ ہے؟
یہیں سے اصل بحث شروع ہوتی ہے۔
پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر ضیا میاں کے مطابق کسی بھی نیوکلیئر پاور پلانٹ کی متوقع عمر تقریباً 75 سال ہوتی ہے۔ ان کے بقول مشرقِ وسطیٰ گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگوں، سیاسی عدم استحکام اور عسکری تنازعات کا مرکز رہا ہے۔
1967 اور 1973 کی عرب اسرائیل جنگیں، ایران عراق جنگ، عراق پر امریکی حملے، شام کی خانہ جنگی اور حالیہ علاقائی کشیدگیاں اس غیر یقینی صورتحال کی مثالیں ہیں۔
پروفیسر ضیا میاں سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا دنیا یہ یقین کر سکتی ہے کہ آئندہ 75 سال مکمل طور پر مختلف ہوں گے؟
ماہرین کے مطابق اگر جنگ، سائبر حملے، دہشت گردی یا سیاسی بحران کے دوران جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا تو اس کے اثرات کئی دہائیوں تک باقی رہ سکتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی بھی بڑا خطرہ
مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی دنیا کے تیزی سے گرم ہوتے خطوں میں شامل ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کی 2024 رپورٹ “اسٹیٹ آف دی عرب کلائمیٹ” کے مطابق یہ خطہ عالمی اوسط سے تقریباً دو گنا زیادہ رفتار سے گرم ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدی کے اختتام تک خطے کا درجہ حرارت مزید پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھسکتا ہے۔
یہ صورتحال نیوکلیئر توانائی کے لیے نیا چیلنج پیدا کرتی ہے۔ جوہری پاور پلانٹس کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بڑی مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے۔ شدید گرمی اور پانی کی قلت ان پلانٹس کی کارکردگی متاثر کر سکتی ہے۔
فرانس جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی شدید گرمی کے دوران بعض نیوکلیئر پلانٹس عارضی طور پر بند کرنا پڑتے ہیں۔ اس کی وجہ خطرناک حد تک بڑھتا بیرونی درجہ حرارت ہے۔
کیا قابلِ تجدید توانائی بہتر حل ہے؟
جوہری توانائی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ مستقبل دراصل شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی کا ہے۔
پروفیسر ضیا میاں کے مطابق سولر اور ونڈ پاور نسبتاً سستی، تیز رفتار اور کم خطرناک ہیں۔ ان کے بقول اگر ایک نیوکلیئر پلانٹ تیار ہونے میں 10 سال لگتے ہیں تو اسی مدت میں کئی گنا زیادہ شمسی یا ہوا سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں سورج کی وافر روشنی اور وسیع صحرا ایسے منصوبوں کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ سعودی عرب، امارات اور مصر پہلے ہی بڑے سولر منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
توانائی یا طاقت کی سیاست؟
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں نیوکلیئر پروگرام صرف توانائی کا معاملہ نہیں۔ یہ سیاسی طاقت، علاقائی اثر و رسوخ اور عالمی سفارت کاری سے بھی جڑا ہوا ہے۔
جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی کسی بھی ملک کے لیے اسٹریٹیجک حیثیت پیدا کرتی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی طاقتیں اس شعبے پر گہری نظر رکھتی ہیں۔
بعض ماہرین کے مطابق اگر خطے میں جوہری تنصیبات کا دائرہ وسیع ہوا تو ہتھیاروں کی دوڑ، سیکیورٹی خدشات اور بین الاقوامی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
مستقبل کا فیصلہ کون کرے گا؟
یہ بھی پڑھیں
توانائی منتقلی: کمزور طبقات کا تحفظ اور نجی سرمایہ کاری ناگزیر قرار
موسمیاتی تبدیلی ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کو تیز کر رہی ہے؟
پاکستان میں مہمان پرندوں کو خطرات، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کا تحفظ پر زور
دنیا اب ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں توانائی صرف معاشی ترقی کا مسئلہ نہیں رہی۔ یہ قومی سلامتی، ماحولیاتی بقا اور جغرافیائی سیاست کا بنیادی جزو بن چکی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے لیے جوہری توانائی بظاہر ایک پرکشش آپشن ہے۔ یہ کم کاربن اخراج کے ساتھ بڑی مقدار میں بجلی فراہم کر سکتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ جڑے خطرات بھی غیر معمولی ہیں۔
شدید گرمی، پانی کی کمی، جنگی ماحول، سیاسی عدم استحکام اور طویل المدتی سیکیورٹی خدشات ایسے عوامل ہیں جو اس خواب کو خطرناک حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔
اصل سوال یہی ہے کہ کیا مشرقِ وسطیٰ جیسے غیر مستحکم خطے میں اس ٹیکنالوجی کو محفوظ، پائیدار اور عوامی مفاد کے مطابق چلایا جا سکتا ہے؟ آنے والے برس شاید اسی سوال کا جواب طے کریں گے۔
