environmental-news environmental-reports farozaan

موسمیاتی تبدیلی ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کو تیز کر رہی ہے؟

Is climate change accelerating the spread of hantavirus?

موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی تباہی اور انسانی مداخلت کے باعث ہنٹا وائرس پھیلانے والے چوہے نئے علاقوں تک پہنچنے لگے

ارجنٹینا میں ہنٹا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین نے اس کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تباہی قرار دی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک سال میں مریضوں کی تعداد تقریباً دگنی ہو گئی ہے۔ اب تک 32 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ یہ 2018 کے بعد سب سے زیادہ کیسز ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے “سی این این” کے مطابق حکام ایک جوڑے کی سفری سرگرمیوں کا سراغ لگا رہے ہیں۔ یہ جوڑا ملک بھر میں سفر کے بعد کروز شپ “ایم وی ہونڈیئس” پر ہلاک ہوا۔ وہاں وائرس کا پھیلاؤ جاری تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک سال میں مریضوں کی تعداد تقریباً دگنی ہو گئی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور وائرس کا پھیلاؤ

ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں اضافہ وائرس کے پھیلاؤ کو بڑھا رہا ہے۔ شدید بارشیں اور خشک سالی بھی اس کی وجوہات ہیں۔ قدرتی ماحول کی تباہی بھی ایک اہم سبب ہے۔

ہنٹا وائرس عام طور پر متاثرہ چوہوں سے پھیلتا ہے۔ یہ پیشاب، فضلے یا آلودہ ذرات کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث چوہے نئے علاقوں میں جا رہے ہیں۔

ارجنٹینا کی وزارتِ صحت کے مطابق موجودہ سیزن میں 101 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ یہ سیزن جون 2025 میں شروع ہوا تھا۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں صرف 57 کیسز تھے۔

انسانی مداخلت بھی اہم وجہ

حکام کے مطابق جنگلات میں انسانی مداخلت بھی بڑا سبب ہے۔ قدرتی رہائش گاہوں کی تباہی بھی وائرس کو پھیلا رہی ہے۔ دیہی علاقوں میں نئی آبادیاں بھی اس میں کردار ادا کر رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اب محفوظ علاقوں میں بھی کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ یہ صورتحال تشویشناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان میں مہمان پرندوں کو خطرات، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کا تحفظ پر زور
پاکستان اور ترکیہ کا ماحولیاتی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

متعدی امراض کے ماہر “ایڈورڈو لوپیز” کہتے ہیں کہ چوہے موسمی تبدیلی کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں۔ اس سے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ درجہ حرارت میں اضافہ ماحولیاتی نظام کو متاثر کر رہا ہے۔ اس سے لمبی دم والے چوہوں کی نقل و حرکت بڑھ رہی ہے۔ یہ چوہے ارجنٹینا اور چلی میں وائرس کے بنیادی کیریئر ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں