Farozaan Wildlife

ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان کے اسپیلاتھون پروگرام کو 29 سال مکمل

WWF Pakistan’s Spellethon Program Completes 29 Years

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اسپیلاتھون کے 29 سال مکمل، 300 سے زائد اسکولوں کے ڈیڑھ لاکھ طلبہ شریک، نیشنل چیمپئن شپ لاہور میں منعقد

لاہور میں عالمی ادارہ برائے فطرت پاکستان کے ماحولیاتی تعلیم پروگرام نے اپنے نمایاں “اسپیلاتھون” اقدام کے 29 سال مکمل ہونے کا جشن منایا۔

یہ پروگرام پاکستان کے طویل ترین اسکول سطح کے ماحولیاتی تعلیمی اقدامات میں شمار ہوتا ہے۔

اس کا مقصد زبان، سیکھنے کے عمل اور تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے بچوں میں ماحولیاتی شعور اجاگر کرنا ہے۔

یہ پروگرام پاکستان کے طویل ترین اسکول سطح کے ماحولیاتی تعلیمی اقدامات میں شمار ہوتا ہے۔

اسپیلاتھون کا آغاز اور سفر

اسپیلاتھون پروگرام کا آغاز 1997 میں کیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ ابتدائی تعلیم میں ماحولیات، جنگلی حیات اور قدرتی وسائل کے تحفظ سے متعلق آگاہی شامل کی جائے۔

تقریباً تین دہائیوں میں یہ پروگرام ایک ملک گیر تعلیمی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔

اس میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، فیصل آباد، ملتان، سیالکوٹ، حیدرآباد، گجرات اور واہ کینٹ کے اسکول باقاعدگی سے شریک ہوتے ہیں۔

رواں سال اس پروگرام میں 300 سے زائد اسکولوں کے ایک لاکھ 50 ہزار سے زیادہ طلبہ نے حصہ لیا۔

ریکارڈ شرکت اور تعلیمی سرگرمیاں

رواں سال اس پروگرام میں 300 سے زائد اسکولوں کے ایک لاکھ 50 ہزار سے زیادہ طلبہ نے حصہ لیا۔ یہ اب تک کی سب سے بڑی شرکت قرار دی جا رہی ہے۔

پروگرام کے دوران طلبہ کو جماعتی سرگرمیوں اور مقابلہ جاتی مراحل کے ذریعے ماحولیات سے متعلق تصورات آسان اور دلچسپ انداز میں سکھائے گئے۔

کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے 18 بہترین طلبہ نے قومی حتمی مقابلے میں حصہ لیا۔

قومی چیمپئن شپ لاہور میں

اسپیلاتھون پروگرام کا اختتام لاہور کے علی آڈیٹوریم میں ہونے والی قومی اسپیلاتھون چیمپئن شپ پر ہوا۔کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے 18 بہترین طلبہ نے قومی حتمی مقابلے میں حصہ لیا۔.

درجہ اول سے درجہ ہفتم تک کے طلبہ نے مختلف مراحل میں اپنی الفاظ دانی، سمجھ بوجھ اور ذہنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

حتمی مقابلے کے لیے طلبہ کو ملک بھر کے اسکول اور علاقائی مقابلوں کے بعد منتخب کیا گیا تھا۔

اہم شخصیات کی شرکت

تقریب میں حماد نقی خان نے خصوصی شرکت کی۔انعامات میاں الطاف ایم سلیم نے تقسیم کیے، جو سابق وفاقی وزیر اور عالمی ادارہ برائے فطرت پاکستان کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں۔

ماحولیاتی تعلیم کی اہمیت

ڈائریکٹر جنرل عالمی ادارہ برائے فطرت پاکستان حماد نقی خان نے کہا کہ اسپیلاتھون اس یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ ماحولیاتی تعلیم کا آغاز ابتدائی عمر سے ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق جب بچوں کو زبان اور تجسس کے ذریعے سیکھنے کا موقع ملتا ہے تو وہ خود کو قدرتی دنیا کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ ماحول دوست طرز فکر کو فروغ دیتا ہے۔

مستقبل کی قیادت میں سرمایہ کاری

میاں الطاف ایم سلیم نے کہا کہ تقریباً تین دہائیوں تک کسی پروگرام کا اپنی اہمیت برقرار رکھنا قابلِ تحسین ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ماحولیات سے متعلق تعلیم دینا دراصل مستقبل کی ذمہ دار قیادت میں سرمایہ کاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں

میکسیکو سٹی تیزی سے زمین میں کیوں دھنس رہا ہے

شدید گرمی کا خطرہ: فیفا ورلڈ کپ کے لیے ماہرین کا الرٹ

مسلسل جاری تعلیمی کاوش

عالمی ادارہ برائے فطرت پاکستان کے ماحولیاتی تعلیم شعبے کے تحت قومی اسپیلاتھون چیمپئن شپ ہر سال منعقد کی جاتی ہے۔

یہ پاکستان کے تعلیمی نظام میں ماحولیاتی شعور کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش سمجھی جاتی ہے۔

29 سال مکمل ہونے کے باوجود اسپیلاتھون پروگرام نوجوان نسل کو ماحول دوست مستقبل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں