Environmental Reports Farozaan

شدید گرمی کا خطرہ: فیفا ورلڈ کپ کے لیے ماہرین کا الرٹ

Extreme Heat Risk: Experts Issue Alert for FIFA World Cup

فیفا ورلڈ کپ: موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں رہی، کھیلوں، معیشت اور انسانی صحت پر بھی سنگین اثرات

دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور شدید ہیٹ ویوز کے تناظر میں ماہرینِ ماحولیات اور اسپورٹس میڈیسن کے ماہرین نے آنے والے فٹبال کے مشہور عالم مقابلے جنہیں ’’فیفا ورلڈ کپ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے کے حوالے سے سنگین خدشات ظاہر کیے ہیں۔

مختلف تحقیقی اداروں اور موسمیاتی ماہرین کے مطابق، عالمی حدت اب کھیلوں کے بڑے عالمی ایونٹس کے لیے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہے، جہاں کھلاڑیوں، شائقین اور عملے کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔

واضع رہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے یہ مقابلے 11جون سے لے کر 19جولائی تک امریکہ، کنیڈا اور مکسیکو میں منعقد ہوں گے، اور مجموعی طور پر 104میچز کھیلے جائیں گے جن میں سے زیادہ تر میچز امریکہ میں ہوں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شدید گرمی اور نمی میں اضافہ جاری رہا تو مستقبل میں فٹبال جیسے کھیلوں کے اوقات، مقامات اور شیڈول تبدیل کرنا ناگزیر ہو جائے گا جب کہ بعض سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ کئی شہروں میں دن کے اوقات میں میچز کا انعقاد خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ایسے حالات میں کھلاڑیوں کے لیے 90 منٹ تک مسلسل دوڑنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔

کھلاڑیوں کی صحت کو خطرات

اسپورٹس فزیالوجی کے ماہرین کے مطابق شدید گرمی میں کھیلنے سے کھلاڑیوں کو ہیٹ اسٹروک، ڈی ہائیڈریشن، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی، پٹھوں کی شدید تھکن اور ان کی جسمانی کارکردگی میں کمی جیسے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جب درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچ جاتا ہے اور نمی بھی زیادہ ہو تو جسم کا قدرتی کولنگ سسٹم متاثر ہونے لگتا ہے۔

ایسے حالات میں کھلاڑیوں کے لیے 90 منٹ تک مسلسل دوڑنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کھیلوں کی دنیا اب براہِ راست موسمیاتی بحران سے متاثر ہو رہی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور کھیل

حالیہ برسوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں ریکارڈ توڑ ہیٹ ویوز دیکھی گئی ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم اور دیگر عالمی ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید گرمی کے واقعات زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کھیلوں کی دنیا اب براہِ راست موسمیاتی بحران سے متاثر ہو رہی ہے۔ فٹبال، کرکٹ، میراتھن اور ٹینس جیسے کھیلوں میں شدید گرمی کے باعث میچ روکنے یا اوقات تبدیل کرنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔

بزرگ افراد، بچے اور دل کے مریض زیادہ خطرے میں ہوں گے۔

شائقین بھی خطرے میں

رپورٹس کے مطابق صرف کھلاڑی ہی نہیں بلکہ ہزاروں شائقین بھی شدید گرمی سے متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر وہ افراد جو کھلے اسٹیڈیمز میں کئی گھنٹے گزارتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مناسب ٹھنڈک، پانی اور طبی سہولیات موجود نہ ہوں تو ہیٹ اسٹروک اور بے ہوشی کے واقعات بڑھ سکتے ہیں۔

بزرگ افراد، بچے اور دل کے مریض زیادہ خطرے میں ہوں گے۔

فیفا پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ مستقبل کے عالمی ٹورنامنٹس میں موسمیاتی خطرات کو مرکزی اہمیت دے۔

فیفا اور منتظمین پر دباؤ

فیفا پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ مستقبل کے عالمی ٹورنامنٹس میں موسمیاتی خطرات کو مرکزی اہمیت دے۔

اس حوالے سے ماہرین چند اہم تجاویز پیش کرتے ہیں کہ میچز شام یا رات میں منعقد کیے جائیں، اسٹیڈیمز میں کولنگ سسٹم نصب ہوں، کھلاڑیوں کے لیے اضافی واٹر بریکس دی جائیں، شائقین کے لیے ہنگامی طبی مراکز قائم کیے جائیں اور گرمی کے خطرات کے مطابق شیڈول ترتیب دیا جائے۔

کھیلوں کا مستقبل بدل رہا ہے

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ اب یہ عالمی کھیلوں، معیشت اور انسانی صحت کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی نہ آئی تو مستقبل میں کئی کھیل شدید گرمی کے باعث متاثر ہو سکتے ہیں۔

بعض ماہرین نے یہاں تک خبردار کیا ہے کہ دنیا کے کئی علاقے موسمِ گرما میں بڑے اسپورٹس ایونٹس کے لیے موزوں نہیں رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

گلگت میں سینیٹری و سیوریج منصوبے
خطرے سے دوچار انواع، تحفظ کی نئی پیش رفت
ڈیجیٹل تاخیر پاکستان کو عالمی دوڑ میں پیچھے دھکیل سکتی ہے

پاکستان کے لیے بھی سبق

پاکستان بھی شدید ہیٹ ویوز سے متاثر ممالک میں شامل ہے۔ کراچی ، لاہور اور دیگر شہروں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے کھیلوں کی سرگرمیوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بھی اسپورٹس انفراسٹرکچر، گراؤنڈز اور ایونٹس کی منصوبہ بندی میں موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کو شامل کرنا ہوگا تاکہ کھلاڑیوں اور عوام کی صحت محفوظ رہ سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں