Articles Farozaan

تمر کے محافظ طاہر قریشی: ڈاکو پرو چانڈیو کے اغوا سے مینگرووز کی بحالی تک

Muhammad Tahir Qureshi: From Dacoit Pro Chandio’s Kidnapping to Mangrove Restoration

تمر کے محافظ طاہر قریشی کی جدوجہد، اغوا کا تاریخی دلچسپ واقعہ اور سندھ کے ساحلوں پر لاکھوں درختوں کی بحالی

کراچی کے ساحلوں پر جب سورج غروب ہوتا ہے تو سمندر کے کنارے کھڑے تمر کے گھنے درخت لہروں سے خاموشی سے مقابلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ درخت صرف درخت نہیں بلکہ ساحلی علاقوں کے محافظ ہیں۔

انہی محافظوں کو نئی زندگی دینے والے شخص کو دنیا “فادر آف دی مینگرووز” کے نام سے جانتی ہے۔ ان کا نام محمد طاہر قریشی تھا۔

یہ کہانی صرف درختوں کی نہیں، بلکہ حوصلے، اغوا، جدوجہد اور ماحولیات کے تحفظ کی ایک مکمل تاریخ ہے۔

قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان بھارت سے ہجرت کرکے سندھ آیا۔ پہلے شکارپور اور بعد میں حیدرآباد میں آباد ہوا۔

ابتدائی زندگی اور تعلیمی پس منظر

محمد طاہر قریشی 1946 میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان بھارت سے ہجرت کرکے سندھ آیا۔ پہلے شکارپور اور بعد میں حیدرآباد میں آباد ہوا۔

بچپن سے ہی انہیں قدرتی ماحول سے گہرا لگاؤ تھا۔ وہ سندھی زبان بھی روانی سے بولتے تھے۔

انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے بایولوجی میں ایم ایس سی کیا۔ بعد میں پشاور کے پاکستان فاریسٹ انسٹیٹیوٹ سے جنگلات کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد محکمہ جنگلات سندھ میں خدمات شروع کیں۔

انہوں نے ساحلی علاقوں میں تمر کے جنگلات کی اہمیت اجاگر کی اور خود دلدلی علاقوں میں جا کر پودے لگائے۔

سندھ کے جنگلات سے مینگرووز تک سفر

ابتدا میں ان کی ذمہ داری دریائے سندھ کے کنارے جنگلات کی نگرانی تھی۔ مگر اصل پہچان انہیں ساحلی مینگرووز کے تحفظ سے ملی۔

انہوں نے ساحلی علاقوں میں تمر کے جنگلات کی اہمیت اجاگر کی اور خود دلدلی علاقوں میں جا کر پودے لگائے۔

وہ اکثر کہتے تھے:“تمر کراچی کے پھیپھڑے ہیں۔”

ڈاکو پرو چانڈیو کے ہاتھوں اغوا کا واقعہ

سن 1980 کی دہائی میں سندھ کے کچے علاقے ڈاکوؤں کی محفوظ پناہ گاہ سمجھے جاتے تھے۔ انہی علاقوں میں ایک بدنام زمانہ ڈاکو پرو چانڈیو کا اثر و رسوخ تھا۔

دادو اور مورو کے درمیان جنگلات میں کام کے دوران محمد طاہر قریشی کو ڈاکوؤں نے گھیر لیا اور اغوا کر لیا۔

تقریباً ساٹھ مسلح افراد نے انہیں دو راتوں تک یرغمال بنایا۔

بعد میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ کوئی امیر شخص نہیں بلکہ ایک فاریسٹ افسر ہیں۔ اس پر ڈاکوؤں نے حیران کن طور پر انہیں نقصان نہ پہنچانے کا فیصلہ کیا، کیونکہ وہ جنگلات کے محافظ تھے۔

یوں وہ بغیر تاوان کے رہا ہو گئے۔

یہ واقعہ ان کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوا۔

مینگرووز کی بحالی کا تاریخی مشن

اس واقعے کے بعد انہوں نے توجہ ساحلی مینگرووز کی طرف مرکوز کر دی۔

سن 1990 کی دہائی میں کراچی اور سندھ کے ساحلی علاقوں میں مینگرووز تیزی سے ختم ہو رہے تھے۔ زمینوں پر قبضہ، آلودگی اور کٹائی نے صورتحال خراب کر دی تھی۔

محمد طاہر قریشی نے نہ صرف پودے لگائے بلکہ عوامی شعور بھی پیدا کیا۔

انہوں نے ماہی گیروں، طلبہ اور مقامی آبادی کو مینگرووز کی اہمیت سمجھائی۔

ان کی کوششوں سے سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ہزاروں ایکڑ پر جنگلات بحال ہوئے۔

بحیرہ عرب کے کنارے 30 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبے پر بحالی میں ان کا مرکزی کردار رہا۔

عالمی سطح پر پہچان

ان کی خدمات کے اعتراف میں انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) نے انہیں “ہیرو آف مینگرووز” کا خطاب دیا۔

سادہ زندگی اور فیلڈ ورک

محمد طاہر قریشی ایک سادہ انسان تھے۔ وہ اکثر خاکی شرٹ اور سادہ پتلون میں دلدلی علاقوں میں پہنچ جاتے۔

کمر تک پانی میں اتر کر پودوں کا جائزہ لیتے۔

شدید گرمی ہو یا سردی، وہ روزانہ ساحلوں پر موجود رہتے۔

عالمی ریکارڈ اور پاکستان کی کامیابی

سال 2009 میں پاکستان نے ایک دن میں پانچ لاکھ سے زائد مینگرووز کے پودے لگا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا۔

اس موقع پر بھی محمد طاہر قریشی موجود تھے۔

صحافی کے گھر آمد — علم بانٹنے کی روایت

سینئر صحافی شجاع الدین قریشی کے مطابق انہوں نے اپنے کیریئر کے آغاز میں محمد طاہر قریشی سے ملاقات کی۔

وہ صرف دفتر تک محدود نہیں تھے۔

وہ خود گھر پہنچ گئے اور گھنٹوں مینگرووز کی اہمیت سمجھاتے رہے۔

انہوں نے پرو چانڈیو کے اغوا کی کہانی بھی بڑے سادہ انداز میں سنائی۔

یہ بھی پڑھیں

موسمیاتی تبدیلی: 2026 میں بدلتے موسم انسانیت کے لیے خطرہ

ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان کے اسپیلاتھون پروگرام کو 29 سال مکمل

آخری دن اور ورثہ

سن 2020 میں کورونا وبا کے دوران بھی وہ مینگرووز سے دور نہ رہے۔

دسمبر 29 سال 2020 کو کراچی میں ان کا انتقال ہوگیا۔

آج وہ جسمانی طور پر موجود نہیں، مگر سندھ کے ساحلوں پر موجود لاکھوں مینگرووز ان کی محنت کی گواہی دے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں