فروزاں رپورٹ
اسلام آباد: وزیرِ مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شزرہ منصب علی خان کھرل نے کہا ہے کہ پاکستان میں منصفانہ اور پائیدار توانائی منتقلی کے لیے مربوط پالیسی سازی ضروری ہے۔
انہوں نے مقامی وسائل متحرک کرنے پر زور دیا۔ نجی سرمایہ کاری بڑھانے اور کمزور طبقات کے تحفظ کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق توانائی کا تحفظ اب معاشی استحکام اور قومی ترقی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محدود مالی گنجائش کے باوجود حقیقت پسندانہ اور عوام دوست اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان اصلاحات سے پاکستان کو صاف توانائی کے فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔ اس سے معاشی استحکام اور موسمیاتی اہداف کے حصول میں بھی پیش رفت ہوگی۔
ڈاکٹر شزرہ منصب علی خان کھرل نے یہ بات ایک پالیسی مکالمے سے خطاب میں کہی۔
مکالمے کا موضوع ’’ماحولیاتی طور پر پائیدار معیشت کی جانب منتقلی کے دوران سماجی و معاشی خوشحالی‘‘ تھا۔
اس کا اہتمام پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی اور اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل نے مشترکہ طور پر کیا۔
اس موقع پر ایشیا و بحرالکاہل اقتصادی و سماجی سروے 2026 کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔
ڈاکٹر شزرہ منصب علی خان کھرل نے کہا کہ توانائی منتقلی کو سماجی اور معاشی ترقی سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔
اس سے پیداواری صلاحیت بڑھ سکتی ہے۔ قیمتوں میں استحکام آئے گا۔ جامع اقتصادی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ نجی سرمایہ کاری، بین الاقوامی موسمیاتی فنڈنگ اور جدید مالیاتی ذرائع سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔
ان کے مطابق منصفانہ اور قابلِ عمل توانائی نظام کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ڈاکٹر شزرہ منصب علی خان کھرل نے مزید کہا کہ کامیاب توانائی منتقلی کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مؤثر ہم آہنگی ضروری ہے۔ سیاسی عزم اور علاقائی تعاون بھی ناگزیر ہیں۔
ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ پاکستان کو سبز توانائی کے عالمی رجحان کو اپنی معاشی حکمتِ عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پالیسیوں میں عدم توازن سماجی اور معاشی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی منتقلی کے دوران کمزور طبقات کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے۔
ڈاکٹر حمزہ علی ملک نے کہا کہ ایشیا و بحرالکاہل خطہ عالمی اقتصادی ترقی میں 53 فیصد حصہ ڈال رہا ہے۔ تاہم خطے کو جغرافیائی کشیدگی، مہنگائی اور سست معاشی نمو جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کو پالیسی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق صاف توانائی، علاقائی تعاون اور مؤثر اصلاحات سے پائیدار معاشی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے نمائندہ ڈاکٹر سیموئیل رزق نے کہا کہ ترقیاتی اور موسمیاتی منصوبوں کے لیے صرف بیرونی مالی امداد کافی نہیں۔ انہوں نے مقامی وسائل متحرک کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ توانائی منتقلی میں سرمایہ کاری سے معاشی ترقی بڑھے گی۔ اس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ڈاکٹر شازیہ غنی نے کہا کہ محدود مالی وسائل، ٹیکنالوجی کی کمی اور موسمیاتی فنڈنگ تک رسائی میں مشکلات بڑی رکاوٹیں ہیں۔
انہوں نے مرحلہ وار اور حقیقت پسندانہ اہداف اپنانے پر زور دیا۔ شمسی توانائی کے فروغ کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیا گیا۔
وزارتِ خزانہ کے اقتصادی مشیر راجہ محسن حسن نے کہا کہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مضبوط پالیسی اقدامات ضروری ہیں۔
ڈاکٹر سیموئیل رزق نے نئی سرمایہ کاری پر زور دیا۔ الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے کو بھی اہم قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں
موسمیاتی تبدیلی ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کو تیز کر رہی ہے؟
پاکستان میں مہمان پرندوں کو خطرات، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کا تحفظ پر زور
اختتامی خطاب میں محمد یحییٰ نے کہا کہ توانائی کا تحفظ اب قومی سلامتی کا اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی میں خودکفالت اور مضبوط نظام کے بغیر پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں۔
موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی تباہی اور انسانی مداخلت کے باعث ہنٹا وائرس پھیلانے والے چوہے نئے…
پاکستان میں مہمان پرندے: ویٹ لینڈز کی تباہی اور غیر قانونی شکار بڑا چیلنج، تحفظ…
پاکستان اور ترکیہ نے موسمیاتی تبدیلی، سیلابی خطرات اور آبی تحفظ میں تعاون بڑھانے پر…
اسلام آباد میں زیر تعمیر بابر پارک کو پاک-ازبک دوستی کی علامت قرار دیا گیا،…
مہمان پرندے: برڈ لائف انٹرنیشنل نے ہجرتی پرندوں کے تحفظ کے لیے فوری عالمی اور…
کلین اینڈ گرین اسلام آباد مہم کے تحت ایف-6/3 ہِل ویو پارک میں تقریب، طلبہ…
This website uses cookies.