فاطمہ خان (ریسرچرگرین انرجی )
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک بار پھر پاکستان کے انرجی سسٹم کی بنیادی کمزوری بے نقاب کر دی ہے۔ یہ کمزوری درآمدی فوسل فیولز پر حد سے زیادہ انحصار ہے۔
عالمی تنازعات صرف جغرافیائی سیاست تک محدود نہیں رہتے۔ ان کے براہِ راست اثرات پاکستان جیسے ممالک کی معیشت پر بھی پڑتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں ہر کشیدگی تیل کی قیمتوں، درآمدی بل، روپے پر دباؤ اور مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔
پاکستان کی صورتحال خاص طور پر نازک ہے۔ ملک اپنی مجموعی انرجی ڈیمانڈ کا تقریباً 70 سے 80 فیصد درآمد کرتا ہے۔ سالانہ آئل امپورٹ بل 15 سے 20 ارب ڈالر کے درمیان رہتا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کا انرجی سسٹم عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
اگر خام تیل کی قیمت میں صرف 10 ڈالر فی بیرل اضافہ ہو جائے تو درآمدی بل میں تقریباً 1.5 سے 2 ارب ڈالر کا اضافہ ہو جاتا ہے۔
پٹرول کی قیمتوں کا حالیہ رجحان اس مسئلے کو واضح کرتا ہے۔ روس۔یوکرین جنگ کے دوران پاکستان میں پٹرول کی قیمت تقریباً 150 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 270 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی تھی۔
یہ اضافہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا۔ ٹرانسپورٹ، فوڈ سپلائی چین اور صنعتی لاگت بھی متاثر ہوتی ہے، جس سے مجموعی مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔
اسی طرح جغرافیائی سیاسی بحرانوں کے دوران ایل این جی اسپاٹ قیمتیں 300 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔
نتیجتاً پاکستان کو مہنگے کارگوز منسوخ کرنا پڑے۔ اس سے گیس بحران اور لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا۔
ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف مہنگی ایل این جی نہیں بلکہ معاہدوں کا اسٹرکچرل مس میچ بھی ہے۔
پاکستان نے تقریباً 45 ایل این جی کارگوز مؤخر کیے۔ اس سے وقتی طور پر تقریباً ایک ٹریلین روپے کی بچت ہوئی۔
تاہم طویل مدتی اندازوں کے مطابق 2031 تک تقریباً 177 کارگوز سرپلس ہو سکتے ہیں۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ انرجی ڈیمانڈ، معاہدوں اور انرجی ٹرانزیشن کے درمیان توازن موجود نہیں۔
پاکستان ہر سال تقریباً 1.8 سے 2.1 ٹریلین روپے کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کرتا ہے۔
یہ رقم انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پیز) کو دی جاتی ہے، چاہے بجلی استعمال ہو یا نہ ہو۔
اس کے باوجود پاور پلانٹس کی اوسط یوٹیلائزیشن صرف 42 فیصد ہے۔ بعض پلانٹس صرف 3 فیصد صلاحیت پر چل رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ واضح سسٹم فیلیر ہے۔ ایک طرف مہنگی تھرمل پاور کیلئے ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔
دوسری طرف سستی رینیوایبل انرجی کو مکمل طور پر گرڈ میں شامل نہیں کیا جا رہا۔
موجودہ معاہدے، جن میں’’ٹیک اینڈ پے‘‘، ’’مسٹ رن‘‘ اور ڈالر انڈیکسیشن شامل ہیں، پاکستان کو مہنگے انرجی ٹریپ میں جکڑے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان میں ڈسٹری بیوٹڈ سولر ایڈاپشن تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اندازوں کے مطابق 2021 سے اب تک تقریباً 12 ارب ڈالر کے فیول امپورٹس آف سیٹ کیے جا چکے ہیں۔
یہ ایک غیر رسمی مگر مؤثر انرجی ٹرانزیشن ہے، جسے عوام نے خود شروع کیا۔ تاہم موجودہ گرڈ اس تبدیلی کو سپورٹ کرنے کیلئے تیار نہیں۔
اسی وجہ سے ’’ڈک کرو‘‘ جیسے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ دن کے وقت اضافی سولر بجلی ضائع ہو جاتی ہے جبکہ شام میں مہنگی تھرمل پاور استعمال کرنا پڑتی ہے۔
اس کے ساتھ سولر ٹیکسز اور نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلیاں بھی اس رفتار کو متاثر کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال پاکستان کیلئے واضح انرجی ماڈل پالیسی سگنل ہے۔
انرجی سیکیورٹی کا مطلب اب مزید ایندھن درآمد کرنا نہیں بلکہ پورے سسٹم کو نئے سرے سے ڈیزائن کرنا ہے۔
اہم تجاویز
سولر اور بیٹری ٹیکنالوجی پر ٹیکس ختم کیے جائیں
نیٹ میٹرنگ پالیسی بحال کی جائے
آئی پی پیز اور ایل این جی معاہدوں کی ری اسٹرکچرنگ کی جائے
ڈالر انڈیکسیشن اور سخت شرائط کم کی جائیں
گرڈ ماڈرنائزیشن پر فوری سرمایہ کاری کی جائے
ڈیمانڈ سائیڈ مینجمنٹ اور ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دیا جائے
2 اور 3 وہیلرز کو الیکٹرک وہیکلز میں منتقل کیا جائے
مائیکرو گرڈز اور ورچوئل پاور پلانٹس جیسے ماڈلز اپنائے جائیں
پنجاب میں موسمیاتی نقل مکانی بڑا چیلنج، 2025 کے سیلاب سے لاکھوں افراد متاثر
مشرقِ وسطیٰ میں جوہری توانائی: ترقی کا راستہ یا خطرناک مستقبل؟
توانائی منتقلی: کمزور طبقات کا تحفظ اور نجی سرمایہ کاری ناگزیر قرار
نتیجہ واضح ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کی کشیدگی پاکستان کے مسائل کی اصل وجہ نہیں بلکہ ایک ویک اپ کال ہے۔
موجودہ انرجی ماڈل، جو درآمدی ایندھن اور سخت معاہدوں پر کھڑا ہے، اب پائیدار نہیں رہا۔
پاکستان کو ایسا انرجی ماڈل سسٹم تشکیل دینا ہوگا جو مقامی وسائل، رینیوایبل انرجی، بیٹری اسٹوریج اور ڈی سینٹرلائزڈ مارکیٹس پر مبنی ہو۔
ماہرین کے مطابق حقیقی انرجی سیکیورٹی اور معاشی استحکام کا راستہ بھی یہی ہے۔
گلوف خطرہ: گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے حساس علاقوں میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ…
پنجاب حکومت کا کلائمیٹ آبزرویٹری، ہیٹ ویو مینجمنٹ پلان اور موسمیاتی تبدیلی ایکٹ متعارف کرانے…
مشرقِ وسطیٰ میں بجلی کی بڑھتی طلب، موسمیاتی تبدیلی اور سیاسی کشیدگی کے درمیان نیوکلیئر…
توانائی منتقلی کے اہداف کے حصول کے لیے موسمیاتی فنڈنگ، علاقائی تعاون، نجی سرمایہ کاری…
موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی تباہی اور انسانی مداخلت کے باعث ہنٹا وائرس پھیلانے والے چوہے نئے…
پاکستان میں مہمان پرندے: ویٹ لینڈز کی تباہی اور غیر قانونی شکار بڑا چیلنج، تحفظ…
This website uses cookies.