فروزاں ماحولیاتی رپورٹس

اسموگ بحران: پالیسی موجود مگر عملدرآمد بڑا چیلنج، ملک امین اسلم

Two experts speaking at a Sustainable Development Policy Institute (SDPI) panel discussion on smog and air pollution in Islamabad

ملک امین اسلم نے کہا کہ اسموگ سے نمٹنے کیلئے پالیسی اور ٹیکنالوجی موجود ہے مگر مؤثر عملدرآمد بڑا چیلنج ہے، ماہرین نے پنجاب کیلئے فوری حکمت عملی پر زوردیا ہے۔

اسلام آباد : سابق وزیر مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ اسموگ بحران سے نمٹنے کیلئے پالیسی، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے حل موجود ہیں۔ تاہم ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانا سب سے بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے یہ بات پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جس میں ماہرین، پالیسی سازوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

ماہرین نے پنجاب میں اسموگ بحران سے نمٹنے کے لیے فوری حکمت عملی پر زور دیا ہے۔

پنجاب میں اسموگ کی سنگین صورتحال

اجلاس میں ماہرین نے خبردار کیا کہ پنجاب میں فضائی آلودگی اور خطرناک اسموگ کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جس سے نمٹنے کیلئے فوری، مربوط اور طویل المدتی حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔

اسموگ کی بڑی وجوہ

شرکاء کے مطابق اسموگ کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔

فصلوں کی باقیات جلانا

صنعتی اخراج

ٹرانسپورٹ کا دھواں

کمزور نفاذی نظام

ماہرین نے کہا کہ یہ تمام عوامل مل کر فضائی آلودگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

زرعی شعبہ اور بلیک کاربن کا کردار

ایس ڈی پی آئی کی زینب نعیم نے بتایا کہ پنجاب میں زرعی شعبہ پی ایم 2.5 اخراج میں تقریباً 20 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ جبکہ ٹرانسپورٹ اور صنعت بڑے آلودگی کے ذرائع ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فصلوں کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والا بلیک کاربن خاص طور پر شام کے اوقات میں اسموگ کی شدت میں اضافہ کرتا ہے۔

عالمی تناظر اور ماحولیاتی خطرات

کلین ایئر فنڈ کے نمائندے ٹومی نے کہا کہ اگرچہ عالمی سطح پر زرعی باقیات کا حصہ تقریباً 3 فیصد ہے۔ تاہم مقامی حالات میں اس کا اثر کہیں زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بلیک کاربن کو ایک خطرناک آلودہ عنصر قرار دیا۔ اور کہا کہ عالمی سطح پر اس پر توجہ بڑھ رہی ہے۔ اور اسے ماحولیاتی پالیسیوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

اسموگ سے نمٹنے کے لیے پاک بھارت مشترکہ فضائی آلودگی فورم کی تجویز

دھویں میں لپٹا شہر:فضائی آلودگی کی تباہ کاریاں

ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی کی ضرورت

پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کے بانی عابد عمر نے زور دیا کہ فصلوں کی باقیات کا مجموعی آلودگی میں حصہ 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ اس لیے پالیسی سازی ٹھوس ڈیٹا کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ تاکہ وسائل کا مؤثر استعمال ممکن ہو سکے۔

کسانوں کیلئے عملی حل

ماہرین عامر حیات اور محسن نے اس بات پر زور دیا کہ کسانوں کو فصلوں کی باقیات جلانے کے متبادل فراہم کیے جائیں۔ جن میں مالی معاونت، جدید زرعی مشینری، مضبوط سپلائی چین ڈیجیٹل پلیٹ فارمز شامل ہیں۔ تاکہ وہ ماحول دوست طریقے اختیار کر سکیں۔

حکومتی اقدامات اور پیش رفت

ڈاکٹر امبرین لطیف اور ڈاکٹر صادقہ بتول نے حکومتی اقدامات اور فضائی معیار کی نگرانی کے نظام میں بہتری کو سراہا۔ تاہم اس بات پر زور دیا کہ ان کامیابیوں کو برقرار رکھنے کیلئے مستقل اور مربوط کوششیں ضروری ہیں۔

نتیجہ

مکالمے کے اختتام پر ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسموگ کے بحران سے نمٹنے کیلئے پالیسی اور ٹیکنالوجی سے زیادہ اہم ان پر مؤثر اور مستقل عملدرآمد ہے۔

اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے۔ تو یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں