فروزاں رپورٹ
اپریل کے آخری دنوں میں ایک غیر معمولی صورتحال سامنے آئی۔ دنیا کے 50 گرم ترین شہروں میں شامل تمام شہر ایک ہی ملک بھارت میں تھے۔
یہ انکشاف فضائی معیار اور درجہ حرارت کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم’’اے کیو آئی‘‘ کے اعداد و شمار سے ہوا۔ ادارے کے مطابق اس صورتحال کی جدید تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
اے کیو آئی نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ یہ معمول کا اپریل نہیں تھا۔ یہ ایک سنگین موسمی انتباہ ہے۔ اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
اے کیو آئی کی درجہ بندی 24 گھنٹوں کے درجہ حرارت کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اس میں زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم درجہ حرارت شامل ہوتے ہیں۔ بارش، ہوا اور نمی کو بھی دیکھا جاتا ہے۔
27 اپریل کو 50 بھارتی شہروں کا اوسط زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 112.5 ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ گیا۔
فہرست میں سرفہرست اتر پردیش کا شہر باندا تھا۔ یہاں شدید گرم اور نیم استوائی آب و ہوا پائی جاتی ہے۔
عام طور پر شدید گرمی کے مہینے ابھی شروع نہیں ہوئے تھے۔ لیکن درجہ حرارت پہلے ہی خطرناک حد تک پہنچ گیا۔
اسی دن باندا میں درجہ حرارت 115.16 ڈگری فارن ہائیٹ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اس دن دنیا بھر میں سب سے زیادہ تھا۔ صبح کے وقت بھی درجہ حرارت 94.5 ڈگری سے کم نہیں ہوا۔
ماہر موسمیات میکسی میلیانو ہیریرا کے مطابق، اپریل کے دوسرے نصف میں ہیٹ ویو غیر معمولی تھی۔ یہ تاریخ کی شدید ترین اپریل ہیٹ ویوز میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپریل عام طور پر سب سے گرم مہینہ نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود کئی درجن ریکارڈ ٹوٹ گئے۔
ایک دن کے اعداد و شمار مکمل رجحان نہیں دکھاتے۔ تاہم بھارت طویل عرصے سے شدید گرمی کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔
بھارت میں گرمیاں زیادہ شدید ہو رہی ہیں۔ یہ جلد بھی شروع ہو رہی ہیں۔ گزشتہ سال اپریل میں کئی علاقوں کا درجہ حرارت 100 ڈگری سے اوپر گیا تھا۔ یہ اوسط سے تقریباً 5 ڈگری زیادہ تھا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال رہی تو 2050 تک گرمی انسانی برداشت سے باہر ہو سکتی ہے۔
شدید گرمی دنیا کی مہلک ترین موسمی آفات میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے سب سے زیادہ اثرات بچوں، بزرگوں اور مزدوروں پر پڑتے ہیں۔
ہیٹ ویو زراعت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اس سے خوراک کی پیداوار کم ہو سکتی ہے۔ معیشت اور صحت کا نظام بھی دباؤ میں آتا ہے۔
رواں سال بھارت کو ایران جنگ کے اثرات کا بھی سامنا ہے۔ تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ ایندھن کی قلت بھی پیدا ہوئی ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں ہے جب کولنگ کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔
بھارتی محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ اس سال گرمی معمول سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
شمالی پاکستان میں گلوف الرٹ، فلیش فلڈ کا خطرہ بڑھ گیا
پنجاب میں موسمیاتی نقل مکانی بڑا چیلنج، 2025 کے سیلاب سے لاکھوں افراد متاثر
بحرالکاہل میں پیدا ہونے والا موسمیاتی نظام ’’ایل نینو‘‘ بھی خطرے کی علامت ہے۔ یہ بھارت کے مون سون کو متاثر کر سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے 2026 میں کم بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ اس سے زراعت متاثر ہو سکتی ہے۔ پانی کی قلت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
ماضی میں بھی ایل نینو کے دوران کم بارشیں اور خشک سالی دیکھی گئی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک نئی ہیٹ ویو آ سکتی ہے۔ وسطی اور مشرقی بھارت متاثر ہو سکتے ہیں۔
ہیٹ انڈیکس بعض علاقوں میں 122 سے 140 ڈگری فارن ہائیٹ تک جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔
انرجی ماڈل: درآمدی ایندھن پر انحصار، مہنگی بجلی اور کمزور گرڈ نے پاکستان کی معیشت…
گلوف خطرہ: گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے حساس علاقوں میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ…
پنجاب حکومت کا کلائمیٹ آبزرویٹری، ہیٹ ویو مینجمنٹ پلان اور موسمیاتی تبدیلی ایکٹ متعارف کرانے…
مشرقِ وسطیٰ میں بجلی کی بڑھتی طلب، موسمیاتی تبدیلی اور سیاسی کشیدگی کے درمیان نیوکلیئر…
توانائی منتقلی کے اہداف کے حصول کے لیے موسمیاتی فنڈنگ، علاقائی تعاون، نجی سرمایہ کاری…
موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی تباہی اور انسانی مداخلت کے باعث ہنٹا وائرس پھیلانے والے چوہے نئے…
This website uses cookies.