فروزاں

عالمی یومِ ارض: کیا دنیا کا “تیسرا قطب” ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر ہے؟

عالمی یومِ ارض: برف پگھلنے کی رفتار بے قابو، کیا “تیسرا قطب” زمین کے لیے نیا ماحولیاتی بحران بننے جا رہا ہے؟

دنیا بھر میں ہر سال 22 اپریل کو عالمی یومِ ارض (ارتھ ڈے) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد زمین، ماحول، جنگلات، پہاڑوں، دریاؤں اور تمام جانداروں کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی آلودگی اور انسانی سرگرمیوں کے اثرات سے فطرت کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لیے یہ دن اہم سمجھا جاتا ہے۔

یہ دن پہلی مرتبہ سن 1980 میں منایا گیا تھا اور آج دنیا کے 193 سے زائد ممالک میں اس کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔

پاکستان کا شمالی خطہ گلگت بلتستان تقریباً 28 ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ہے

گلگت بلتستان کی جغرافیائی اہمیت

پاکستان کا شمالی خطہ گلگت بلتستان تقریباً 28 ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ خطہ دنیا کے تین عظیم سلسلہ ہائے کوہ قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش کے سنگم پر واقع ہے۔

یہ خطہ نہ صرف قدرتی حسن سے مالا مال ہے بلکہ عالمی ماحولیاتی نظام میں بھی اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔

یہاں دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں شامل کے ٹو، نانگا پربت، گشربروم، براڈ پیک اور راکاپوشی موجود ہیں۔

گلگت بلتستان میں ہزاروں گلیشیئر پائے جاتے ہیں۔ ان میں بیافو، بالتورو اور سیاچن جیسے بڑے گلیشیئر شامل ہیں۔

قطبین کے بعد دنیا کا سب سے بڑا گلیشیئر ذخیرہ اسی خطے میں موجود ہے۔ اسی وجہ سے اسے اکثر “تیسرا قطب” بھی کہا جاتا ہے۔

یہیں سے دریائے سندھ، گلگت، ہنزہ اور شگر سمیت کئی اہم دریا نکلتے ہیں جو پاکستان کے وسیع زرعی علاقوں کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ یہ پانی کروڑوں لوگوں کی زندگی کا بنیادی ذریعہ ہے۔

گزشتہ چند دہائیوں میں گلگت بلتستان کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں

گلیشیئر تیزی سے پگھلنے کا خطرہ

گزشتہ چند دہائیوں میں گلگت بلتستان کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور موسمیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں 2700 سے زائد گلیشیئر موجود ہیں جن میں سے بڑی تعداد سکڑ رہی ہے۔

درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئل لیک آؤٹ برسٹ فلڈز (گلاف) یعنی گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

سن 2022 سے 2025 کے دوران گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں سیلابی تباہ کاریوں نے ہزاروں گھروں کو نقصان پہنچایا۔ سڑکیں، پل اور فصلیں بھی متاثر ہوئیں۔

ماہرین کے مطابق اگر موسمیاتی تبدیلی کی رفتار اسی طرح جاری رہی تو مستقبل میں پورا پاکستان پانی کی شدید قلت کا سامنا کر سکتا ہے۔

گلگت بلتستان نایاب اور خطرے سے دوچار جنگلی حیات کا بھی مسکن ہے

نایاب جنگلی حیات کو لاحق خطرات

گلگت بلتستان نایاب اور خطرے سے دوچار جنگلی حیات کا بھی مسکن ہے۔
یہاں برفانی چیتا، مارکو پولو بھیڑ، ہمالیائی بھورا ریچھ، مشک نافہ ہرن، آئی بیکس اور مرموٹ سمیت کئی نایاب جانور پائے جاتے ہیں۔

قراقرم نیشنل پارک اور دیگر محفوظ علاقے ان جانوروں کی اہم پناہ گاہ ہیں۔
تاہم غیر قانونی شکار، جنگلات کی کٹائی اور انسانی آبادی کے پھیلاؤ سے ان کے قدرتی مسکن کو خطرات لاحق ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نایاب نسلیں آنے والی نسلوں کے لیے صرف کتابوں میں رہ جائیں گی۔

ان علاقوں میں متبادل توانائی کے ذرائع کی کمی کے باعث لوگ ایندھن کے لیے لکڑی استعمال کرتے ہیں۔

جنگلات کی تیزی سے کٹائی

گلگت بلتستان کے جنگلات خاص طور پر چلاس، دیامر اور استور کے علاقوں میں تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ ان علاقوں میں متبادل توانائی کے ذرائع کی کمی کے باعث لوگ ایندھن کے لیے لکڑی استعمال کرتے ہیں۔

نتیجتاً درختوں کی بے دریغ کٹائی جاری ہے۔ اس سے زمینی کٹاؤ بڑھ رہا ہے، چشمے خشک ہو رہے ہیں اور سیلابی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اگرچہ بلین ٹری سونامی منصوبہ اور دیگر شجرکاری مہمات سے کچھ مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، مگر درختوں کی کٹائی کی رفتار اب بھی شجرکاری سے زیادہ ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں گلگت بلتستان میں سیاحت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے

سیاحت اور ماحولیات کا توازن

گزشتہ چند برسوں میں گلگت بلتستان میں سیاحت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ہر سال لاکھوں سیاح کے ٹو بیس کیمپ، فیری میڈوز، نلتر، ہنزہ ویلی، خنجراب پاس اور عطاآباد جھیل کا رخ کرتے ہیں۔

سیاحت نے مقامی معیشت کو مضبوط کیا اور روزگار کے مواقع پیدا کیے۔ تاہم اس کے ساتھ پلاسٹک فضلہ، کوڑا کرکٹ اور غیر منصوبہ بند تعمیرات جیسے مسائل بھی بڑھ گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار سیاحت (سَسٹین ایبل ٹورزم) کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گلگت بلتستان میں پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہزاروں میگاواٹ تک بتائی جاتی ہے

صاف توانائی کے بے پناہ مواقع

گلگت بلتستان میں پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہزاروں میگاواٹ تک بتائی جاتی ہے۔ تیز رفتار دریا اور بلند پہاڑی ڈھلانیں اس خطے کو قدرتی توانائی کا بڑا مرکز بنا سکتی ہیں۔

اسی طرح یہاں شمسی توانائی کے بھی وسیع امکانات موجود ہیں۔ اگر ان وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تو نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔

حکومت کے جاری منصوبوں میں دیامر بھاشا ڈیم اور دیگر چھوٹے ہائیڈرو پاور منصوبے شامل ہیں۔

مقامی آبادی کا کردار

گلگت بلتستان کی مقامی آبادی بلتی، شینا، بروشو اور کھوار قبائل پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ صدیوں سے قدرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزارتے آئے ہیں۔

ان کے روایتی آبپاشی نظام اور جنگلات کے تحفظ کے طریقے ماحولیاتی دانش کی مثال سمجھے جاتے ہیں۔

آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک اور دیگر مقامی تنظیمیں بھی ماحولیاتی تعلیم اور پائیدار ترقی کے لیے سرگرم ہیں۔

صوبائی دارالحکومت گلگت شہر میں ٹھوس فضلے کا مسئلہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

شہری آلودگی اور فضلہ کا مسئلہ

صوبائی دارالحکومت گلگت شہر میں ٹھوس فضلے کا مسئلہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ پلاسٹک کے تھیلے، بوتلیں اور دیگر کچرا دریاؤں اور قدرتی مقامات کو متاثر کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق حکومت کو سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی، مؤثر کچرا انتظام اور ری سائیکلنگ کے نظام کو فروغ دینا چاہیے۔ اس کے ساتھ اسکولوں میں ماحولیاتی تعلیم کو بھی لازمی قرار دینے کی ضرورت ہے۔

گلگت بلتستان کے تناظر میں عالمی یومِ ارض محض ایک یادگاری دن نہیں بلکہ ایک اہم انتباہ ہے

موسمیاتی منصوبے اور حکومتی اقدامات

پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے نیشنل کلائمیٹ چینج پالیسی اور قومی موافقت منصوبہ ترتیب دیا ہے۔

گلگت بلتستان میں گلاف رسک ریڈکشن پروجیکٹ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی اور حکومت پاکستان کے تعاون سے جاری ہے۔

اس منصوبے کے تحت کئی علاقوں میں ارلی وارننگ سسٹم نصب کیے گئے ہیں۔

نوجوان نسل کی اُمید

گلگت بلتستان کے نوجوان سوشل میڈیا اور ماحولیاتی تنظیموں کے ذریعے آگاہی پھیلا رہے ہیں۔

ٹریکنگ کلبز اور رضاکارانہ تنظیمیں صفائی مہمات اور شجرکاری میں حصہ لے رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہی نوجوان مستقبل میں ماحول کے تحفظ کی تحریک کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

جنوبی ایشیا میں گرمی اور جنگوں سے ماحولیاتی بحران کا خدشہ

یومِ ارض 2026: کوئٹہ اور پشاور میں شجرکاری مہم، سرسبز پاکستان کا عزم

بحالی مراکز میں علاج یا خطرہ؟ مراکز جزوی طور پر سیل

ارتھ ڈے کا پیغام

گلگت بلتستان کے تناظر میں عالمی یومِ ارض محض ایک یادگاری دن نہیں بلکہ ایک اہم انتباہ ہے۔

یہ خطہ آج پاکستان اور دنیا کو میٹھا پانی، صاف ہوا اور قدرتی حسن فراہم کر رہا ہے۔ لیکن اگر ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات نہ کیے گئے تو یہی خطہ مستقبل میں خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ درخت لگانا، پلاسٹک کے استعمال میں کمی، پانی کا درست استعمال اور ماحول کا احترام ہی زمین کے تحفظ کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

admin

Recent Posts

لاڑکانہ میں شجرکاری: طلبہ کو ماحولیات کا سفیر بنانے پر زور

شجرکاری مہم میں طلبہ کو ماحولیات کا سفیر بنانے پر زور دیا گیا۔ گرین سندھ…

44 minutes ago

جنوبی ایشیا میں گرمی اور جنگوں سے ماحولیاتی بحران کا خدشہ

جنوبی ایشیا میں 2026 میں بڑھتی گرمی اور جنگیں کیا خطے کو شدید ماحولیاتی بحران…

9 hours ago

یومِ ارض 2026: کوئٹہ اور پشاور میں شجرکاری مہم، سرسبز پاکستان کا عزم

یومِ ارض 2026 کے موقع پر کوئٹہ اور پشاور میں شجرکاری مہم کا انعقاد، طلبہ…

1 day ago

بحالی مراکز میں علاج یا خطرہ؟ مراکز جزوی طور پر سیل

بحالی مراکز پر بڑا ایکشن، کراچی میں انسپکشن کے دوران خطرناک خامیاں سامنے، چار مراکز…

1 day ago

جنگی دھواں موسمیاتی بحران کو کتنا بڑھا رہا ہے؟

جنگی دھواں موسمیاتی بحران کو کتنا بڑھا رہا ہے؟ جاری جنگوں سے کاربن اخراج اور…

2 days ago

چھ سیاروں کی بیک وقت موجودگی؟ کیا واقعی ایسا خطرناک منظر نظر آئے گا؟

چھ سیاروں کی نایاب صف بندی ایک ساتھ لیکن ہفتے کے دن؟ کیا واقعی آسمان…

2 days ago

This website uses cookies.