فروزاں رپورٹ
موسمیاتی تبدیلی اب صرف سائنسی بحث نہیں رہی۔ یہ ایک واضح زمینی حقیقت بن چکی ہے۔ پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک اس کے اثرات شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔
سال 2026 میں بڑھتی گرمی، عالمی اداروں کی تشویشناک پیش گوئیاں، اور حالیہ جنگوں کے باعث بڑھتا کاربن اخراج ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشاندہی کر رہا ہے۔ اس صورتحال کو نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔
گزشتہ چند برسوں سے عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سن 2024 کو ریکارڈ گرم ترین سال قرار دیا گیا۔ اس دوران عالمی اوسط درجہ حرارت صنعتی دور کے مقابلے میں تقریباً 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔
ماہرین کے مطابق یہی رجحان سال 2026 میں بھی جاری ہے۔ جنوبی ایشیا، خصوصاً پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔
حرارتی دباؤ کے دنوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سن 2024 میں دنیا کے 61 فیصد زمینی علاقوں نے معمول سے زیادہ گرمی کا سامنا کیا۔
پاکستان کے بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور، جیکب آباد، نواب شاہ، ملتان، فیصل آباد اور پشاور میں درجہ حرارت اکثر 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر رہا ہے۔ بعض علاقوں میں یہ 50 ڈگری تک بھی پہنچا۔
یہ صورتحال انسانی صحت، معیشت اور ماحول تینوں کے لیے خطرناک ہے۔
المی سطح پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج مسلسل بڑھ رہا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق، ’’سن 2024 میں یہ اخراج 37.8 ارب ٹن کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا‘‘۔
یہ اضافہ عالمی حدت کو تیز کر رہا ہے۔ نتیجتاً گرمی کی لہریں زیادہ شدید اور طویل ہو گئی ہیں۔
تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ جنگیں کاربن اخراج میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
جنگی جہاز، ٹینک اور بمباری براہِ راست کاربن بڑھاتے ہیں
بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور دوبارہ تعمیر سے اخراج میں اضافہ ہوتا ہے
فضائی راستوں کی تبدیلی سے ایندھن زیادہ استعمال ہوتا ہے
ایک تحقیق کے مطابق صرف دو ہفتوں کی جنگ میں تقریباً 50 لاکھ ٹن کاربن خارج ہوا۔
روس-یوکرین جنگ کے دوران تین سال میں تقریباً 230 ملین ٹن کاربن کے برابر اخراج ہوا۔
جنگیں صرف براہِ راست نقصان نہیں پہنچاتیں بلکہ ان کے بالواسطہ اثرات بھی شدید ہوتے ہیں۔
ان میں شامل ہیں:
جنگلات میں آگ
زرعی زمینوں کی تباہی
فضائی آلودگی
زہریلے مادوں کا اخراج
یوکرین میں جنگ کے دوران جنگلاتی آگ نے گرین ہاؤس گیسوں میں مزید اضافہ کیا۔
ماحولیاتی نگرانی کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے، جس سے نقصان کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔
سائنسی طور پر دیکھا جائے تو جنگوں سے پیدا ہونے والا کاربن اخراج فوری اثر نہیں دکھاتا۔
لیکن مجموعی طور پر یہ عالمی حدت کو تیز کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگوں سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں درجہ حرارت میں اضافے میں حصہ ڈالتی ہیں، اگرچہ اس کا درست تناسب معلوم کرنا مشکل ہے۔
2026 میں گرمی کی شدت: کیا توقع ہے؟
ماہرین کے مطابق
گرمی جلد شروع ہوگی
زیادہ دیر تک رہے گی
گرمی کی لہریں زیادہ شدید ہوں گی
درجہ حرارت معمول سے 4 سے 7 ڈگری زیادہ ہو سکتا ہے
نمی کے باعث “محسوس ہونے والا درجہ حرارت” مزید خطرناک ہو جائے گا۔
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اخراج کم نہ ہوا تو درجہ حرارت 1.5 ڈگری کی حد عبور کر سکتا ہے، اور ممکنہ طور پر 2.7 ڈگری تک جا سکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان بھی شال ہے۔
اہم اثرات میں شامل ہیں
شدید گرمی کی لہریں
پانی کی قلت
زرعی پیداوار میں کمی
گلیشیئرز کا پگھلاؤ
شہری علاقوں میں حرارتی جزیرہ اثر
کراچی جیسے ساحلی شہر میں نمی اور گرمی کا امتزاج انسانی صحت کے لیے مزید خطرناک بنتا جا رہا ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
قومی سطح پر گرمی سے نمٹنے کا عملی منصوبہ تیار کیا جائے، قابل تجدید توانائی کو فروغ دیا جائے اور بڑے پیمانے پر شجر کاری کی جائے ۔
عالمی سطح پر جنگی اخراج کو اوّل تو موسمیاتی پالیسی کا حصہ بنایا جائے، دوئم کاربن اخراج کی شفاف رپورٹنگ کی جائے اور سوئم امن کو ماحولیاتی حکمت عملی میں شامل کیا جائے۔
یہ نکات عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل ہونے چاہئیں۔
بحالی مراکز میں علاج یا خطرہ؟ مراکز جزوی طور پر سیل
چھ سیاروں کی بیک وقت موجودگی؟ کیا واقعی ایسا خطرناک منظر نظر آئے گا؟
ویرونگا کے پہاڑوں میں غم، بقا اور انسان سے حیران کن قربت کی کہانی
سال 2026 کی گرمی محض موسم نہیں بلکہ ایک بڑے بحران کی علامت ہے۔
صنعتی سرگرمیاں اور ایندھن جہاں عالمی حدت کو بڑھا رہے ہیں، وہیں جنگیں بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔
اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو جنوبی ایشیا شدید ماحولیاتی اور انسانی بحران کا سامنا کرے گا۔
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ دراصل انسانیت کی بقا کی جنگ ہے، اور اس میں تاخیر کے نتائج ناقابلِ واپسی ہو سکتے ہیں۔
یومِ ارض 2026 کے موقع پر کوئٹہ اور پشاور میں شجرکاری مہم کا انعقاد، طلبہ…
بحالی مراکز پر بڑا ایکشن، کراچی میں انسپکشن کے دوران خطرناک خامیاں سامنے، چار مراکز…
جنگی دھواں موسمیاتی بحران کو کتنا بڑھا رہا ہے؟ جاری جنگوں سے کاربن اخراج اور…
چھ سیاروں کی نایاب صف بندی ایک ساتھ لیکن ہفتے کے دن؟ کیا واقعی آسمان…
ویرونگا کے گھنے جنگلات میں گوریلوں کا اجتماعی غم، سماجی ڈھانچہ اور عالمی تحفظ کی…
بحر اوقیانوس کا اہم سمندری نظام کمزور، نئی تحقیق میں شدید موسمی خطرات کی نشاندہی،…
This website uses cookies.