فروزاں رپورٹ
دنیا ابھی کورونا وبا کے اثرات سے مکمل طور پر نہیں نکل سکی۔ اسی دوران مختلف خطوں میں ایک اور خطرناک بیماری، ہنٹا وائرس، ماہرینِ صحت کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ یہ وائرس نیا نہیں، لیکن حالیہ برسوں میں اس کے پھیلاؤ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی کٹائی، شہری پھیلاؤ اور جنگلی حیات کے انسانی آبادیوں کے قریب آنے سے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ وائرس بنیادی طور پر چوہوں اور دیگر کترنے والے جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ سانس، گردوں اور جسم کے دیگر اہم اعضا کو متاثر کر سکتا ہے۔ بعض کیسز میں اس کی شرحِ اموات 30 سے 40 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔
ہنٹا وائرس دراصل وائرسز کے ایک خاندان کا نام ہے۔ یہ عموماً جنگلی چوہوں میں پایا جاتا ہے۔
انسان اس وقت متاثر ہوتا ہے جب وائرس سے آلودہ چوہوں کا پیشاب، فضلہ یا لعاب خشک ہو کر فضا میں شامل ہو جائے۔ یہ ذرات سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت اور امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے مطابق یہ وائرس دو بڑی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ ایک “ہنٹا وائرس پلمونری سنڈروم” ہے، جو پھیپھڑوں کو شدید متاثر کرتا ہے۔ دوسری “ہیموریجک فیور ود رینل سنڈروم” ہے، جو گردوں اور خون کے نظام کو نقصان پہنچاتا ہے۔
امریکا، چین، روس، جنوبی امریکا اور یورپ کے مختلف ممالک میں اس وائرس کے کیسز سامنے آتے رہے ہیں۔
ہنٹا وائرس کی ابتدائی علامات عام فلو جیسی ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے اکثر مریض بروقت تشخیص سے محروم رہتے ہیں۔
اہم علامات میں تیز بخار، جسم اور پٹھوں میں درد، شدید تھکن، سر درد، متلی، قے، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ بعض مریض سینے میں دباؤ بھی محسوس کرتے ہیں۔
اگر بیماری شدت اختیار کر جائے تو مریض کے پھیپھڑوں میں پانی بھر سکتا ہے۔ شدید صورت میں سانس کی ناکامی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرینِ ماحولیات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی صرف درجہ حرارت میں اضافے تک محدود نہیں رہی۔ اس نے بیماریوں کے پھیلاؤ کے انداز بھی بدل دیے ہیں۔
شدید بارشیں، سیلاب، جنگلات کی تباہی اور خوراک کی دستیابی میں تبدیلی چوہوں کی آبادی بڑھا سکتی ہے۔ جب یہ جانور انسانی آبادیوں کے قریب آتے ہیں تو وائرس کے منتقل ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ اور مختلف طبی جرائد میں شائع تحقیقات کے مطابق دنیا بھر میں “زونوٹک ڈیزیزز” میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ وہ بیماریاں ہیں جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہیں۔
کورونا، ایبولا، نپاہ وائرس اور ہنٹا وائرس کو اسی سلسلے کی کڑیاں سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان میں ہنٹا وائرس کے بڑے پیمانے پر کیسز رپورٹ نہیں ہوئے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ناقص صفائی اور موسمیاتی تبدیلی خطرات بڑھا سکتی ہے۔
کچرے کے ڈھیر، نکاسیٔ آب کے مسائل اور چوہوں کی بڑھتی تعداد صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔
کراچی، لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں چوہوں کی تعداد پہلے ہی ایک بڑا شہری مسئلہ بن چکی ہے۔ خاص طور پر بارشوں اور سیلاب کے بعد جراثیمی اور وائرل بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرینِ صحت کے مطابق اگر مؤثر نگرانی کا نظام موجود نہ ہو تو مستقبل میں اس نوعیت کی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
فی الحال ہنٹا وائرس کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں۔ اس کے لیے عالمی سطح پر منظور شدہ ویکسین بھی دستیاب نہیں۔
ڈاکٹر مریض کو علامات کے مطابق علاج فراہم کرتے ہیں۔ شدید کیسز میں آئی سی یو اور آکسیجن سپورٹ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جلد تشخیص مریض کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
طبی ماہرین ہنٹا وائرس سے بچاؤ کے لیے کئی احتیاطی تدابیر تجویز کرتے ہیں۔
ان میں گھروں اور گوداموں میں چوہوں کی روک تھام، خوراک کو محفوظ برتنوں میں رکھنا اور کچرے کی فوری صفائی شامل ہے۔
بند کمروں کو کھولنے سے پہلے اچھی طرح ہوا دار بنانا بھی ضروری قرار دیا جاتا ہے۔
اسی طرح چوہوں کے فضلے کو صاف کرتے وقت ماسک اور دستانوں کا استعمال ضروری سمجھا جاتا ہے۔ متاثرہ جانوروں کو براہِ راست ہاتھ لگانے سے بھی گریز کی ہدایت دی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
بھارت ہیٹ ویو: دنیا کے 50 گرم ترین شہر ایک ہی ملک میں
پاکستان کا انرجی ماڈل ایک ٹرننگ پوائنٹ پر
شمالی پاکستان میں گلوف الرٹ، فلیش فلڈ کا خطرہ بڑھ گیا
ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس فوری طور پر عالمی وبا کی شکل اختیار کرنے والا وائرس نہیں۔ اس کی انسان سے انسان میں منتقلی محدود سمجھی جاتی ہے۔
تاہم بدلتے ماحولیاتی حالات، جنگلات کی کٹائی اور بے ہنگم شہری پھیلاؤ نے مستقبل کے خطرات بڑھا دیئے ہیں۔
دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ماحولیاتی تباہی اور انسانی صحت ایک دوسرے سے جڑی حقیقتیں بن گئی ہیں۔
ہنٹا وائرس اس حقیقت کی ایک اور مثال ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر قدرتی نظام کو مسلسل نقصان پہنچتا رہا تو آنے والے برسوں میں نئی بیماریاں انسانیت کے لیے مزید بڑے چیلنج بن سکتی ہیں۔
بھارت ہیٹ ویو: اپریل میں ریکارڈ توڑ درجہ حرارت، ایل نینو اور کمزور مون سون…
انرجی ماڈل: درآمدی ایندھن پر انحصار، مہنگی بجلی اور کمزور گرڈ نے پاکستان کی معیشت…
گلوف خطرہ: گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے حساس علاقوں میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ…
پنجاب حکومت کا کلائمیٹ آبزرویٹری، ہیٹ ویو مینجمنٹ پلان اور موسمیاتی تبدیلی ایکٹ متعارف کرانے…
مشرقِ وسطیٰ میں بجلی کی بڑھتی طلب، موسمیاتی تبدیلی اور سیاسی کشیدگی کے درمیان نیوکلیئر…
توانائی منتقلی کے اہداف کے حصول کے لیے موسمیاتی فنڈنگ، علاقائی تعاون، نجی سرمایہ کاری…
This website uses cookies.