فروزاں رپورٹ
میکسیکو سٹی اس قدر تیزی سے زمین میں دھنس رہا ہے کہ اب یہ عمل خلا سے بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک طاقتور ریڈار نظام کے ذریعے حاصل کی گئی تصاویر کے مطابق شہر ہر ماہ آدھے انچ (۰.۵ انچ) سے زیادہ نیچے جا رہا ہے۔ اس رفتار نے اسے دنیا کے تیزی سے دھنسنے والے دارالحکومتوں میں شامل کر دیا ہے۔
یہ وسیع شہر ایک قدیم جھیل کے اوپر آباد ہے اور ایک بڑے زیرِ زمین آبی ذخیرے پر انحصار کرتا ہے۔ یہی ذخیرہ شہر کے تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ مکینوں کو 60 فیصد پینے کا پانی فراہم کرتا ہے۔
وقت کے ساتھ اس ذخیرے سے ضرورت سے زیادہ پانی نکالا گیا۔ نتیجتاً زمین نیچے بیٹھنے لگی۔ پانی کے اس بے تحاشا استعمال نے ایک سنگین آبی بحران کو جنم دیا۔ شہر کو اب “یومِ صفر” یعنی پانی مکمل ختم ہونے کے خطرے کا سامنا ہے۔
تیز رفتار شہری ترقی نے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ نئی عمارتیں اور بنیادی ڈھانچہ نرم، چکنی مٹی پر اضافی دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس سے زمین کے دھنسنے کی رفتار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
میکسیکو سٹی میں زمین دھنسنے کا عمل پہلی بار 1920 کی دہائی میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ تب سے اس کے اثرات مسلسل ظاہر ہو رہے ہیں۔
ان اثرات میں سڑکوں کا ٹوٹنا، عمارتوں کا جھک جانا اور ریل کے نظام کو نقصان پہنچنا شامل ہیں۔
حالیہ تصاویر جدید سیٹلائٹ نثار سیٹلائٹ نے فراہم کی ہیں، جو امریکی خلائی ادارہ ناسا اور بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارہ اسرو کا مشترکہ منصوبہ ہے۔
یہ سیٹلائٹ زمین کی معمولی سے معمولی حرکات کو بھی ریکارڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اکتوبر 2025 سے جنوری 2026 کے دوران کیے گئے مشاہدات کے مطابق شہر کے کچھ حصے ہر ماہ تقریباً 0.8 انچ تک دھنس رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ سالانہ شرح 9.5 انچ سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
زیادہ متاثرہ علاقوں میں بینیٹو خواریز بین الاقوامی ہوائی اڈہ شامل ہے، جو شہر کا مرکزی ہوائی اڈہ ہے۔
اسی طرح شہر کی علامتی یادگار فرشتۂ آزادی بھی اس مسئلے کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ 1910 میں تعمیر ہونے والی اس 114 فٹ بلند یادگار کے نیچے زمین دھنسنے کے باعث اس کی بنیاد میں 14 سیڑھیاں مزید شامل کرنا پڑیں۔
یہ بھی پڑھیں
شدید گرمی کا خطرہ: فیفا ورلڈ کپ کے لیے ماہرین کا الرٹ
پاک آذربائیجان تعلقات: پروازیں، سیاحت اور تعاون میں اضافہ
ماہرین کے مطابق میکسیکو سٹی زمین دھنسنے کے حوالے سے ایک بڑا اہم مرکز بن چکا ہے۔ نثار جیسے جدید سیٹلائٹس مستقبل میں دنیا بھر میں ایسے مزید انکشافات سامنے لا سکتے ہیں۔ یہ سیٹلائٹ نہ صرف زمین کے دھنساؤ بلکہ برفانی تودوں کی حرکت، فصلوں کی نشوونما اور آتش فشانی سرگرمیوں کی نگرانی بھی کر سکتا ہے۔
فیفا ورلڈ کپ: موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں رہی، کھیلوں، معیشت اور…
پاکستان میں پہلی بار عوامی ایئر کوالٹی ڈسپلے شروع، شہریوں کو ریئل ٹائم فضائی معیار…
پاک آذربائیجان : دونوں ممالک نے روابط، ویزا سہولیات اور سیاحت کے فروغ پر پیش…
ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر جی بی ای پی اے نے گلگت سیوریج منصوبے…
خطرے سے دوچار انواع پر ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ پاکستان نے نایاب انواع کے تحفظ…
ڈیجیٹل تاخیر: فائیو جی اور جدید انفراسٹرکچر کے بغیر پاکستان عالمی ڈیجیٹل معیشت کی دوڑ…
This website uses cookies.