Environmental Reports

گلگت میں سینیٹری و سیوریج منصوبے

ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر جی بی ای پی اے نے گلگت سیوریج منصوبے کے ذمہ داران پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔

گلگت بلتستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (جی بی ای پی اے) نے گلگت شہر میں جاری سینیٹری و سیوریج منصوبے کے دوران ماحولیاتی قوانین اور این او سی شرائط کی سنگین خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کرتے ہوئے منصوبے کے ذمہ داران اور ٹھیکیدار پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

نوٹس کے مطابق کھدائی کا ملبہ غیر قانونی طور پر سڑکوں پر پھینکا جا رہا تھا۔ پتھر اور دیگر مواد بھی عوامی مقامات پر ڈالے گئے۔

ملبے کی غیر قانونی تلفی اور شہری مسائل

اس حوالے سے جی بی ای پی اے کے ڈائریکٹر خادم حسین کی جانب سے باضابطہ ماحولیاتی تحفظ کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔

محکمہ تحفظ ماحولیات کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق گلگت بلتستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے متعدد عوامی شکایات اور مسلسل معائنوں کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ منصوبے کے دوران کھدائی سے نکالا گیا ملبہ، پتھر اور دیگر مواد غیر قانونی طور پر سڑکوں اور عوامی مقامات پر پھینکا جا رہا تھا، جس سے نہ صرف ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی بلکہ پیدل چلنے والوں اور شہریوں کے لیے خطرناک صورتحال بھی پیدا ہوئی۔

ٹریفک بندش اور ناقص انتظامات سے مشکلات بڑھیں۔ یہ ماحولیاتی خلاف ورزی قرار دی گئی۔

ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی

نوٹس کے مطابق منصوبے کے مختلف مقامات خصوصاً جوتیال میں آرمی پبلک اسکول کے قریب شدید گرد و غبار اور فضائی آلودگی پھیلنے کی شکایات موصول ہوئیں۔

جی بی ای پی اے کا کہنا ہے کہ کھدائی شدہ مواد کی غیر مناسب منتقلی اور ناقص انتظامات کے باعث طلبہ، رہائشیوں اور عام شہریوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوئے جبکہ اسکول اوقات میں ٹریفک جام اور عوامی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا۔

ماحولیاتی ادارے نے مزید کہا کہ متعدد بار ہدایات جاری کرنے کے باوجود منصوبے پر کام کرنے والے ادارے ماحولیاتی تحفظ کے تقاضوں، حفاظتی اقدامات اور معیاری طریقہ کار پر عملدرآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے۔

ادارے کے مطابق بار بار ہدایات دی گئیں۔ لیکن ان پر عمل نہیں کیا گیا۔

کھدائی غیر منصوبہ بند رہی۔ ملبے کو بھی صحیح طریقے سے نہیں ہٹایا گیا۔

ٹریفک بندش اور ناقص انتظامات سے مشکلات بڑھیں۔ یہ ماحولیاتی خلاف ورزی قرار دی گئی۔

اسی بنیاد پر سیکشن 21 کے تحت جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

قانونی کارروائی اور جرمانہ

جی بی ای پی اے نے اپنے حکم نامے میں واضح کیا ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں گلگت بلتستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 2014، قومی ماحولیاتی معیار، ای آئی اے رپورٹ میں درج شرائط اور ماحولیاتی منظوری کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

اسی بنیاد پر سیکشن 21 کے تحت منصوبے کے ذمہ داران اور ٹھیکیدار پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

حکم نامے میں متعلقہ حکام کو فوری طور پر سڑکوں اور عوامی مقامات سے ملبہ ہٹانے، تمام منصوبہ جاتی مقامات پر پانی کا چھڑکاؤ یقینی بنانے، گرد و غبار روکنے کے مؤثر اقدامات کرنے اور تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران ماحولیاتی اصولوں پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

سخت ہدایات اور وارننگ

جی بی ای پی اے نے منصوبے کے ذمہ داران کو دو دن کے اندر اصلاحی اقدامات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ وقت میں ہدایات پر عمل نہ ہونے کی صورت میں جرمانہ دوگنا، ماحولیاتی این او سی معطل یا منسوخ، منصوبے کی سرگرمیاں سیل اور مزید قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

حکام کو فوری طور پر ملبہ ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ سڑکوں کی صفائی بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔

گرد و غبار کم کرنے کے لیے پانی کا چھڑکاؤ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ڈیجیٹل تاخیر پاکستان کو عالمی دوڑ میں پیچھے دھکیل سکتی ہے
خطرے سے دوچار انواع، تحفظ کی نئی پیش رفت

منصوبے کی صورتحال

گلگت بلتستان کے صدر مقام گلگت شہر میں ڈیڑھ برس قبل سیوریج اینڈ سینیٹیشن منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس پر کام کی سست رفتاری کی وجہ سے جگہ جگہ سڑکوں کی کھدائی کی وجہ سے گرد و غبار نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس سے لوگوں کی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے جبکہ عوام کو سفری مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ یہ منصوبہ گلگت ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی زیر نگرانی مکمل ہو رہا ہے۔

گلگت شہر کے رہائشی اس صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔

admin

Recent Posts

خطرے سے دوچار انواع، تحفظ کی نئی پیش رفت

خطرے سے دوچار انواع پر ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ پاکستان نے نایاب انواع کے تحفظ…

2 days ago

ڈیجیٹل تاخیر پاکستان کو عالمی دوڑ میں پیچھے دھکیل سکتی ہے

ڈیجیٹل تاخیر: فائیو جی اور جدید انفراسٹرکچر کے بغیر پاکستان عالمی ڈیجیٹل معیشت کی دوڑ…

2 days ago

ایس ڈی پی آئی اور شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی میں پائیدار ترقی معاہدہ

پائیدار ترقی: ایس ڈی پی آئی اور شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی کے درمیان تاریخی مفاہمتی…

3 days ago

کراچی: شدید گرمی جاری، بوندا باندی کا امکان

کراچی میں ساحلی پٹی پر جزوی ابر آلود موسم رہنے کا امکان ہے جبکہ چند…

3 days ago

ہنٹا وائرس: ایک خاموش مگر خطرناک وبا

ہنٹا وائرس دنیا بھر میں ماہرینِ صحت کی توجہ کا مرکز، پاکستان میں بھی بڑھتے…

3 days ago

بھارت ہیٹ ویو: دنیا کے 50 گرم ترین شہر ایک ہی ملک میں

بھارت ہیٹ ویو: اپریل میں ریکارڈ توڑ درجہ حرارت، ایل نینو اور کمزور مون سون…

4 days ago

This website uses cookies.