فروزاں رپورٹ
اسلام آباد: ماہرین، پالیسی سازوں اور ٹیلی کام صنعت کے نمائندوں نے خبردار کیا کہ پاکستان فائیو جی میں مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ فائیو جی کو مختلف شعبوں سے مؤثر انداز میں جوڑنا ضروری ہے۔ ورنہ پاکستان عالمی ڈیجیٹل معیشت میں مزید پیچھے رہ جائے گا۔
ماہرین کے مطابق فائیو جی کو صنعت، زراعت، تعلیم، صحت اور کاروبار میں فعال طور پر استعمال کرنا ہوگا۔ یہ بات پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام مکالمے میں کہی گئی۔
مکالمے کا عنوان تھا: “فائیو جی معیشت کی تشکیل: انڈسٹری 4.0، کاروباری شعبے میں ٹیکنالوجی کا فروغ اور ایکو سسٹم کی تیاری”۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ موبائل اور ڈیجیٹل سروسز پر عائد ٹیکس کم کیے جائیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ رسائی بہتر بنانے پر زور دیا۔
ایس ڈی پی آئی کی ایسوسی ایٹ ریسرچ فیلو زینب نعیم نے کہا کہ فائیو جی کے لیے ضابطہ جاتی اصلاحات ضروری ہیں۔ انہوں نے مالیاتی پالیسیوں اور جدید انفراسٹرکچر کی اہمیت پر زور دیا۔ بریگیڈیئر (ر) محمد یاسین نے کہا کہ پاکستان چوتھے صنعتی انقلاب میں داخل ہو رہا ہے۔
زینب نعیم کے مطابق فائیو جی کئی شعبوں میں بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔ سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ ڈیٹا پروٹیکشن بل سینیٹ میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس سے غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھے گی اور اربوں ڈالر سرمایہ کاری متوقع ہے۔
پی ٹی اے کے ڈاکٹر محمد مکرم خان نے کہا کہ حکومت نے شفاف پالیسی فریم ورک اپنایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی اے 120 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلام کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ادارہ مسلسل سفارشات دے رہا ہے۔ ان سفارشات میں ٹیکس میں کمی بھی شامل ہے تاکہ انٹرنیٹ سستا ہو سکے۔
ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ فائیو جی سے ملکی پیداوار بڑھ سکتی ہے۔ ان کے مطابق مربوط ترقی سے 5 فیصد اضافہ ممکن ہے۔
جہانزیب رحیم نے کہا کہ حکومت جامع پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس میں موبائل، زمینی اور فائبر رابطے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پہلے ہی نیلام ہو چکا ہے اور مختلف فریم ورک منظور ہو چکے ہیں۔
جاز کی فاطمہ اختر نے کہا کہ آمدن کا بڑا حصہ ٹیکس میں چلا جاتا ہے۔ ان کے مطابق 40 سے 45 فیصد آمدن ٹیکس کی مد میں ادا کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال شعبے کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ پی ٹی سی ایل کے عدنان وحید نے کہا کہ فائبر آلات پر زیادہ ٹیکس مسئلہ ہے۔
فاطمہ اختر نے کہا کہ رائٹ آف وے فیس بھی ترقی کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے مقامی ڈیوائس مینوفیکچرنگ کی حمایت کی۔
یہ بھی پڑھیں
ایس ڈی پی آئی اور شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی میں پائیدار ترقی معاہدہ
کراچی: شدید گرمی جاری، بوندا باندی کا امکان
ڈاکٹر شفقت منیر نے کہا کہ مضبوط ڈیجیٹل ایکو سسٹم ضروری ہے۔ انہوں نے بہتر پالیسی اور انفراسٹرکچر پر زور دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بصورت دیگر اسپیکٹرم مؤثر استعمال کے بغیر رہ سکتا ہے۔
پائیدار ترقی: ایس ڈی پی آئی اور شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی کے درمیان تاریخی مفاہمتی…
کراچی میں ساحلی پٹی پر جزوی ابر آلود موسم رہنے کا امکان ہے جبکہ چند…
ہنٹا وائرس دنیا بھر میں ماہرینِ صحت کی توجہ کا مرکز، پاکستان میں بھی بڑھتے…
بھارت ہیٹ ویو: اپریل میں ریکارڈ توڑ درجہ حرارت، ایل نینو اور کمزور مون سون…
انرجی ماڈل: درآمدی ایندھن پر انحصار، مہنگی بجلی اور کمزور گرڈ نے پاکستان کی معیشت…
گلوف خطرہ: گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے حساس علاقوں میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ…
This website uses cookies.