فروزاں

سوشل میڈیا پر بارش سے متعلق افواہیں، ماہرین نے حقائق واضح کر دیے

اپریل میں ہونے والی بارش کسی خفیہ تجربے یا بیرونی مداخلت کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ یہ موسمیاتی تبدیلی کا واضح اثر ہیں

اسلام آباد: حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر اپریل کی غیر معمولی بارش کے حوالے سے مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں۔ کچھ صارفین اس بارش کو جیو انجینئرنگ یا مصنوعی موسمی تبدیلیوں سے جوڑ رہے ہیں۔ جس سے عوام میں تشویش اور ابہام بڑھ رہا ہے

اس صورتحال پر فروزاں ڈیجیٹل کی بیورو چیف اسلام آباد، فرحین العاص سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ماحولیاتی ماہر اور انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر طلحہ طفیل بٹّی نے سائنسی حقائق بیان کیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اپریل میں ہونے والی بارش کسی خفیہ تجربے یا بیرونی مداخلت کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ یہ موسمیاتی تبدیلی کا واضح اثر ہیں۔ جس نے بارش کے روایتی نظام کو متاثر کیا ہے۔

سائنسی تحقیق کیا کہتی ہے؟

اقوام متحدہ کے ادارے بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی(آئی پی سی سی )کی تازہ رپورٹس کے مطابق عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے اب تک تقریباً 1.1 سے 1.3 ڈگری سیلسیس تک بڑھ چکا ہے۔ جبکہ بعض مہینوں میں یہ اضافہ عارضی طور پر 1.5 ڈگری سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔

ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے مطابق 2023 اور 2024 ریکارڈ کے گرم ترین سال رہے، اور 2025 میں بھی اسی رجحان کے جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا اور وہ بھی گرم ترین سال ہی رہا۔

حقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بارش کے پیٹرنز میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں بارش غیر متوقع اوقات میں اور زیادہ شدت کے ساتھ ہو رہی ہیں۔

ساؤتھ ایشیا، خصوصاً پاکستان، ان تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں میں شامل ہے۔

طلحہ طفیل بھٹی نے بتایا کہ ماضی میں یہ بارش نومبر، دسمبر اور جنوری میں ہوتی تھیں۔ لیکن اب درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے موسمی نظام غیر متوازن ہو چکا ہے۔

ان کے مطابق ہم ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ جہاں موسمی اثرات بتدریج نہیں بلکہ اچانک اور شدید انداز میں سامنے آتے ہیں۔کیونکہ زمین کا انرجی سسٹم ٹپ آف ہوچکا ہے۔ اور یہ ہی حالیہ بارشیوں کی بنیادی وجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ملک میں موسم قدرے ٹھنڈا، بارشیں معمول سے زیادہ

ملک کے مختلف علاقوں میں تیز بارش کا امکان

زرعی شعبہ شدید متاثر

۔ماہر ماحولیات کے مطابق ان بارشوں کا سب سے زیادہ اثر زرعی شعبے پر پڑ رہا ہے۔ خاص طور پر گندم کی تیار فصل متاثر ہو رہی ہے۔ کیونکہ اس وقت کٹائی کا سیزن قریب ہے۔ پ

اکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل اور دیگر زرعی اداروں کے مطابق بے وقت کی بارشیں گندم کی پیداوار میں نمایاں کمی کا سبب بن سکتی ہیں۔ جس سے خوراک کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

نہوں نے کہا کہ کسان پہلے ہی مہنگے ڈیزل، کھاد کی قلت اور عالمی سپلائی چین کے مسائل سے پریشان ہیں۔ عالمی بینک اورایف اے او کی رپورٹس کے مطابق حالیہ برسوں میں زرعی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جس سے چھوٹے کسانوں پر دباؤ بڑھا ہے۔

انھوں نے نشاندہی کی کہ 2022، 2023 اور 2024 دنیا کے گرم ترین سال رہے۔ جو موسمیاتی بحران کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اب موسمی اثرات بتدریج نہیں بلکہ اچانک اور شدید انداز میں سامنے آ رہے ہیں جس چھوٹے کسان زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جیو انجینئرنگ کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں پر بات کرتے ہوئے طلحہ طفیل بھٹی نے کہا کہ “سولر ریڈی ایشن مینجمنٹ” ایک سائنسی تصور ضرور ہے، جس پر تحقیق جاری ہے۔

جیو انجینئرنگ: حقیقت یا افواہ؟

انہوں نے بتایا کہ اس عمل میں فضا میں ذرات چھوڑ کر سورج کی روشنی کو واپس منعکس کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاکہ روشنی زمین تک نہ پہنچے۔ اور تیزی سے پگھلنے والے برفانی تودوں کو روکا جاسکے۔

طلحہ طفیل بھٹی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فضا میں ایروسولز کے ذریعے ٹھنڈک پیدا ہونے کا عمل قدرتی طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

یہ عموماً آتش فشاں پھٹنے کے دوران ہوتا ہے۔ جب بڑی مقدار میں سلفر ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گیسیں فضا میں خارج ہوتی ہیں۔ یہ ذرات سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے سے روکتے ہیں۔ اور اسے واپس خلا میں منعکس کر دیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں عارضی طور پر ٹھنڈک پیدا ہوتی ہے۔

طلحہ نے بتایا کہ اسی قدرتی عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنسدان “سولر ریڈی ایشن مینجمنٹ” جیسے تصورات پر کام کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے تحقیق زیادہ تر امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں جاری ہے۔ جہاں اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ استعمال پر غور کیا جا رہا ہے۔

تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ اور اس کا عملی استعمال محدود ہے۔

اس کے ممکنہ نقصانات بھی ہیں۔ جیسے کہ ماحولیاتی نظام میں خلل اور پودوں و جانوروں کی زندگی کا متاثر ہونا۔

جیو انجینئرنگ کے میدان میں گلوبل نارتھ آگے

طلحہ طفیل بھٹی کے مطابق جیو انجینئرنگ کے میدان میں “گلوبل نارتھ” یعنی ترقی یافتہ ممالک تحقیق اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے کافی آگے ہیں۔ جبکہ “گلوبل ساؤتھ” یعنی ترقی پذیر ممالک اس بحث اور تیاری میں پیچھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات زیادہ تر گلوبل ساؤتھ پر پڑتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود یہ ممالک فیصلہ سازی کے عمل میں مؤثر کردار ادا نہیں کر پا رہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر طاقتور ریاستیں مستقبل میں یکطرفہ طور پر اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ تو یہ عالمی سطح پر ایک نیا تنازع کھڑا کر سکتا ہے۔ کیونکہ اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

ایپلیکیشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر آج دنیا یہ فیصلہ بھی کر لے۔ کہ پورے سیارے کو ایروسولز کے ذریعے کور کرنا ہے۔ تو موجودہ ٹیکنالوجی کے ساتھ اس میں سینکڑوں سال لگ سکتے ہیں۔

اندازوں کے مطابق عالمی سطح پر اس نظام کے نفاذ کے لیے تقریباً 300 سال درکار ہوں گے۔ جس سے واضح ہوتا ہے۔ کہ یہ کوئی فوری حل نہیں بلکہ ایک پیچیدہ اور طویل المدتی عمل ہے۔

پاکستان کے لیے کیا ضروری ہے؟

گفتگو کے اختتام پر طلحہ طفیل بھٹی نے زور دیا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی اور جیو انجینئرنگ جیسے اہم موضوعات پر فوری تحقیق اور پالیسی سازی شروع کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے۔ جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اس لیے بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ عوامی آگاہی بڑھائی جائے۔ اور سائنسی بنیادوں پر فیصلے کیے جائیں۔ تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔

admin

Recent Posts

لاڑکانہ میں شجرکاری: طلبہ کو ماحولیات کا سفیر بنانے پر زور

شجرکاری مہم میں طلبہ کو ماحولیات کا سفیر بنانے پر زور دیا گیا۔ گرین سندھ…

16 hours ago

عالمی یومِ ارض: کیا دنیا کا “تیسرا قطب” ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر ہے؟

عالمی یومِ ارض: برف پگھلنے کی رفتار بے قابو، کیا “تیسرا قطب” زمین کے لیے…

18 hours ago

جنوبی ایشیا میں گرمی اور جنگوں سے ماحولیاتی بحران کا خدشہ

جنوبی ایشیا میں 2026 میں بڑھتی گرمی اور جنگیں کیا خطے کو شدید ماحولیاتی بحران…

1 day ago

یومِ ارض 2026: کوئٹہ اور پشاور میں شجرکاری مہم، سرسبز پاکستان کا عزم

یومِ ارض 2026 کے موقع پر کوئٹہ اور پشاور میں شجرکاری مہم کا انعقاد، طلبہ…

2 days ago

بحالی مراکز میں علاج یا خطرہ؟ مراکز جزوی طور پر سیل

بحالی مراکز پر بڑا ایکشن، کراچی میں انسپکشن کے دوران خطرناک خامیاں سامنے، چار مراکز…

2 days ago

جنگی دھواں موسمیاتی بحران کو کتنا بڑھا رہا ہے؟

جنگی دھواں موسمیاتی بحران کو کتنا بڑھا رہا ہے؟ جاری جنگوں سے کاربن اخراج اور…

2 days ago

This website uses cookies.