وائلڈ لائف

برفانی چیتے کا تحفظ، گلگت بلتستان میں اہم معاہدہ

برفانی چیتے کے تحفظ کے لئے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات گلگت بلتستان اور پاکستان سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کے مابین معاہدہ

گلگت بلتستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
محکمہ جنگلات و جنگلی حیات گلگت بلتستان اور اسنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کے درمیان باضابطہ تعاون کے معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں۔

اس معاہدے کا بنیادی مقصد برفانی چیتے اور اس کے قدرتی مسکن کا مؤثر تحفظ یقینی بنانا ہے۔

گلگت بلتستان دنیا کے ان چند خطوں میں شامل ہے جہاں برفانی چیتا اپنے قدرتی ماحول میں پایا جاتا ہے۔

گلگت بلتستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

اس شراکت داری کے تحت دونوں ادارے مشترکہ طور پر جدید سائنسی طریقے اپنائیں گے۔

ان میں شامل ہیں کیمرا ٹریپنگ، ای ڈی این اے تجزیہ، جینیاتی نمونوں کا جائزہ، سیٹلائٹ کالرنگ اور شکار جانوروں کے سروے۔

یہ تمام طریقے برفانی چیتے کی آبادی، نقل و حرکت اور رہائشی علاقوں کا تفصیلی مطالعہ کریں گے۔

اس تحقیق سے موجودہ صورتحال کو سمجھنے اور مستقبل کی تحفظی حکمت عملی بنانے میں مدد ملے گی۔

معاہدے میں پہاڑی علاقوں کی مقامی آبادی اور جنگلی جانوروں کے درمیان تنازعہ کم کرنے پر بھی توجہ دی گئی ہے

مقامی کمیونٹی اور انسان و جنگلی حیات کا تنازعہ

معاہدے میں پہاڑی علاقوں کی مقامی آبادی اور جنگلی جانوروں کے درمیان تنازعہ کم کرنے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔

اس کے لیے عملی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ پریڈیٹر پروف کورلز یعنی شکاری جانوروں سے محفوظ باڑیں تعمیر کی جائیں گی تاکہ مویشی محفوظ رہ سکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ مویشی انشورنس اسکیمیں اور ویکسینیشن سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔

اس سے مقامی لوگوں کو معاشی تحفظ ملے گا اور برفانی چیتے کے خلاف منفی رویہ کم ہوگا۔

معاہدے پر دونوں اداروں کے اعلیٰ حکام نے دستخط کیے۔

معاہدے پر دستخط کرنے والے حکام

اس معاہدے پر دونوں اداروں کے اعلیٰ حکام نے دستخط کیے۔

گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات سید عبد الواحید شاہ، چیف کنزرویٹر پارکس اینڈ وائلڈ لائف ڈاکٹر ذاکر حسین، اور ڈپٹی سیکرٹری جنگلات عنایت اللہ شیخ۔

اسنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کی جانب سے سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات سید عبد الواحید شاہ، چیف کنزرویٹر پارکس اینڈ وائلڈ لائف ڈاکٹر ذاکر حسین، اور ڈپٹی سیکرٹری جنگلات عنایت اللہ شیخ۔
سینئر ریجنل پروگرام منیجر ڈاکٹر حسین علی اور ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر جعفر الدین۔

اس موقع پر ڈاکٹر حسین علی نے سید عبد الواحید شاہ کو یادگاری سووینئر بھی پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں

عالمی یومِ ارض: کیا دنیا کا “تیسرا قطب” ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر ہے؟

پنجاب میں آلودگی: کیا فوری مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے؟

ماحولیاتی تباہی منافع بن گئی، ٹیکس نظام خاموش

اسنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کا کردار

اسنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کئی برسوں سے گلگت بلتستان میں جنگلی حیات کے تحفظ پر کام کر رہی ہے۔

یہ ادارہ نہ صرف سائنسی تحقیق کر رہا ہے بلکہ مقامی کمیونٹیز میں آگاہی بھی پیدا کر رہا ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کے حکام نے اس کردار کو سراہا اور مکمل تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

امید اور مستقبل کا وژن

دونوں اداروں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ شراکت داری تحفظی اقدامات کو مزید مضبوط کرے گی۔

اس سے برفانی چیتے، اس کے شکار جانوروں اور حساس پہاڑی ماحولیاتی نظام کو فائدہ ملے گا۔

ساتھ ہی مقامی کمیونٹیز کے لیے بھی دیرپا اور پائیدار فوائد حاصل ہوں گے۔

admin

Recent Posts

فوسل فیول کا نظام: کیا بدلتی دنیا میں یہ نظام اب خطرناک ہو چکا ہے؟

فوسل فیول کا نظام اگر تبدیل نہ ہوا تو مہنگائی، موسمیاتی خطرات اور معاشی عدم…

2 hours ago

سوشل میڈیا پر بارش سے متعلق افواہیں، ماہرین نے حقائق واضح کر دیے

اپریل میں ہونے والی بارش کسی خفیہ تجربے یا بیرونی مداخلت کا نتیجہ نہیں ہیں…

1 day ago

لاڑکانہ میں شجرکاری: طلبہ کو ماحولیات کا سفیر بنانے پر زور

شجرکاری مہم میں طلبہ کو ماحولیات کا سفیر بنانے پر زور دیا گیا۔ گرین سندھ…

2 days ago

عالمی یومِ ارض: کیا دنیا کا “تیسرا قطب” ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر ہے؟

عالمی یومِ ارض: برف پگھلنے کی رفتار بے قابو، کیا “تیسرا قطب” زمین کے لیے…

2 days ago

جنوبی ایشیا میں گرمی اور جنگوں سے ماحولیاتی بحران کا خدشہ

جنوبی ایشیا میں 2026 میں بڑھتی گرمی اور جنگیں کیا خطے کو شدید ماحولیاتی بحران…

2 days ago

یومِ ارض 2026: کوئٹہ اور پشاور میں شجرکاری مہم، سرسبز پاکستان کا عزم

یومِ ارض 2026 کے موقع پر کوئٹہ اور پشاور میں شجرکاری مہم کا انعقاد، طلبہ…

3 days ago

This website uses cookies.