فروزاں رپورٹ
اسلام آباد میں پائیدار ترقی، تحقیق اور تعلیمی تعاون کے میدان میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پائیدار ترقی کی پالیسی کا ادارہ (ایس ڈی پی آئی) اور شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی کے درمیان باہمی تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
یہ معاہدہ “ای ایس جی، پائیداری، مالیاتی ٹیکنالوجی اور موسمیاتی مزاحمت دو ہزار چھبیس” کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر طے پایا۔
کانفرنس کا انعقاد شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن نے کیا۔
اس میں ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
شرکاء نے پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، مالیاتی ٹیکنالوجی اور جدید معاشی چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
مفاہمتی یادداشت پر ایس ڈی پی آئی کی ریسرچ فیلو اور سینٹر آف ایویڈنس ایکشن ریسرچ کی سربراہ ڈاکٹر فریحہ ارمغان نے دستخط کیے۔
جبکہ شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر مدد علی شاہ نے بھی معاہدے پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت دونوں ادارے درج ذیل شعبوں میں تعاون کریں گے:
مشترکہ تحقیقی منصوبے
مشاورتی سرگرمیاں
سیمینارز اور کانفرنسوں کا انعقاد
علمی و تعلیمی تقریبات
اس تعاون کا مقصد پاکستان میں شواہد پر مبنی پالیسی سازی، جدت اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔
اس شراکت داری کے تحت طلبہ کو انٹرن شپ اور رضاکارانہ مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔
تربیتی پروگرامز، مہمان لیکچرز اور فیکلٹی ڈیولپمنٹ سرگرمیوں کے ذریعے تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں
بھارت ہیٹ ویو: دنیا کے 50 گرم ترین شہر ایک ہی ملک میں
پاکستان کا انرجی ماڈل ایک ٹرننگ پوائنٹ پر
دونوں اداروں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ یہ تعاون سندھ اور دیگر پسماندہ علاقوں میں تعلیمی و تحقیقی روابط کو مزید مضبوط کرے گا۔
یہ شراکت داری جامع اور نمائندہ ترقی کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
یہ معاہدہ ابتدائی طور پر تین سال کے لیے مؤثر ہوگا، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع کی گنجائش موجود ہے۔
ڈیجیٹل تاخیر: فائیو جی اور جدید انفراسٹرکچر کے بغیر پاکستان عالمی ڈیجیٹل معیشت کی دوڑ…
کراچی میں ساحلی پٹی پر جزوی ابر آلود موسم رہنے کا امکان ہے جبکہ چند…
ہنٹا وائرس دنیا بھر میں ماہرینِ صحت کی توجہ کا مرکز، پاکستان میں بھی بڑھتے…
بھارت ہیٹ ویو: اپریل میں ریکارڈ توڑ درجہ حرارت، ایل نینو اور کمزور مون سون…
انرجی ماڈل: درآمدی ایندھن پر انحصار، مہنگی بجلی اور کمزور گرڈ نے پاکستان کی معیشت…
گلوف خطرہ: گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے حساس علاقوں میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ…
This website uses cookies.